- الإعلانات -

ترکی اور سعودی عرب شام میں مداخلت نہ کرے”صدر بشارالاسد”

دمشق : شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کو شام میں مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق بشارالاسد نے ہسپانوی اخبار کوانٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ترکی اور سعودی عرب انسداد دہشت گردی کے بہانے اپنی افواج شام بھیجیں تو شام کے حکام ان کے فوجیوں کو ہی دہشت گرد سمجھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تویہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی اور شام کے شہریوں کو اپنے وطن کی حفاظت کرنی ہوگی۔بشارالاسد نے مزید کہا کہ ترکی شام میں جنگی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے شام میں پیش آنےوالےواقعات میں مداخلت کرتا آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جنگ بندی پر تیار ہیں بشرطیکہ دہشت گردوں کو جنگ بندی سے فائدہ اٹھانے سے روکا جائے۔بشارالاسد نے کہاکہ اگر حزب اختلاف کے مسلح دستوں کے اراکین ہتھیار ڈال دیں اور سیاسی عمل میں شامل ہو جائیں تو شامی حکام انہیں معافی دینے پر آمادہ ہیں۔

بشارالاسد نے کہا کہ روس اور ایران کی فوجی حمایت سے شامی فوج کو کامیابی حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔بشارالاسد نے اس توقع کا اظہار کیا کہ دس سال بعد شام میں استحکام آجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے ملک کو بچانے والے کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہوں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں صدر کا عہدہ برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔ اگر شام میں حالات معمول ہو جائیں تو میں یوں سمجھوں گا کہ میں اپنے وطن کو بچا لیا ہے۔