- الإعلانات -

پانی کی فی کس دستیابی میں کمی، لمحہ فکریہ

پاکستان میں سطح زمین پر پائے جانے والے پانی کی فی کس دستیابی بتدریج کم ہورہی ہے ۔ جو 1951 ء میں 5300 کیوبک فٹ تھی اور 2002 ء تک کم ہو کر 1300 کیوبک فٹ رہ گئی تھی اور اب مزید کم ہو رہی ہے جو ’’پانی کی کمی والے ملک‘‘ کی نشاندہی کرتی ہے ۔ پاکستان کی معیشت کا دارومدار بنیادی طور پر زراعت پر ہے ۔ یہ سب سے بڑا شعبہ ہے جس سے جی ڈی پی کا بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے اور جس کا برسرروزگار افرادی قوت میں 48;46;4 فیصہ حصہ ہوتا ہے ۔ ملک کی آبادی کا تقریباً 68 فیصد دیہات میں رہائش پذیر ہے جن کا روزگار بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ہماری 70فیصد برآمدات ایسی اشیاء پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ جن کی پیداوار زراعت پر ہے ۔ پانی زراعت میں مرکزی کردار اداکرتا ہے ۔ ہماری 90 فیصد غذائی ضروریات آبپاشی کے ذریعے زراعت کی مرہون منت ہیں جو سوا چار کروڑ ایکڑ اراضی پر محیط ہے اور جو زیر کاشت رقبے کا 80فیصد بنتا ہے جبکہ باقی ماندہ ضروریات ایک کروڑ ایکڑ بارانی زمینوں سے پوری کی جاتی ہیں ۔ پاکستان کا کل رقبہ 19 کروڑ 60لاکھ ایکڑ ہے جس میں سے7 کروڑ 71لاکھ ایکڑ رقبہ قابل کاشت ہے ۔ قابل کاشت رقبے کا 71فیصد جو 5کروڑ 45لاکھ ایکڑ پر محیط ہے، آبپاشی یا بارشوں کی مدد سے پہلے ہی زیر کاشت ہے ۔ باقی 29فیصد قابل کاشت اراضی جو 2کروڑ 26 لاکھ ایکڑ پر مشتمل ہے اسی صورت میں پیداوار دینے کے قابل بنائی جا سکتی ہے اگر اس کو آبپاشی کےلئے پانی فراہم کیا جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی زرعی صلاحیت کا ایک تہائی سے کچھ کم حصہ استعمال میں نہیں لایا جارہا کیونکہ اس کےلئے پانی اور دیگر متعلقہ ڈھانچہ دستیاب نہیں ہے ۔ پاکستان میں پانی کے استعمال پر آبادی میں اضافے، دیہات سے شہروں کی طرف منتقلی اور صنعتوں کے قیام کی وجہ سے پانی کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ طلب و رسد میں بڑھتے ہوئے تفاوت سے کمی اور غیر صحت مندانہ مقابلے کا رجحان پیدا ہورہا ہے جس سے بین الصوبائی کشیدگی پیدا ہورہی ہے اور بعض علاقوں میں مسلسل سیم، جب کہ بعض علاقوں میں زیر زمین پانی بہت حد تک گر جانے کی وجہ سے ماحولیاتی بگاڑ پیدا ہورہاہے ۔ زیر زمین پانی کے بہت زیادہ اور غیر متوازن اخراج سے زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر میں کڑوا پانی مل رہا ہے، جو ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ خشک سالی کے دوران پانی کی روز افزوں کمی کا تقاضا ہے کہ پانی کو محفوظ کیاجائے ۔ پانی کے دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جائے اور آبپاشی کے زیادہ بہتر طریقے اپنانے کےلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے ۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، غذائی خود کفالت، سماجی اور معاشی خوشحالی، غربت کا انسداد اورماحول کا تحفظ ممکن نہیں ہو سکے گا اور انجام کا غذائی کمی بلکہ ملک میں قحط کی سی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ پاکستان میں آبپاشی کی ضروریات زیادہ تر دریائے سندھ سے پوری کی جاتی ہیں ۔ جس کا اوسط سالانہ بہاؤ 138سے 145ایم اے ایف ہے ۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ مقدار 123;46;5ایم اے ایف ہے ۔ کوٹری سے نیچے جانے والے پانی کا اوسط سالانہ بہاؤ1977 ء میں 35ایم اے ایف رہا ہے جبکہ سندھ کے اندازے کے مطابق سمندر میں دس ایم اے ایف جانا ضروری ہے ۔ سمندر کو جانے والے 10ایم اے ایف اور منبع پر استعمال کےلئے 5ایم اے ایف کو نکال کر دریائے سندھ کے پانی کی 20ایم اے ایف مقدار ایسی بچتی ہے جو وفاقی حکومت اور بعض ماہرین کی رائے کے مطابق سیلابوں کے موسم میں ذخیرہ کر کے کمی والے عرصہ کے دوران استعمال کی جا سکتی ہے ۔ اس لئے ان کا استدلال ہے کہ نئے ذخائر کی تعمیر از بس ضروری اور قابل عمل حل ہے ۔ بالخصوص ان حالات میں جبکہ موجودہ بڑے ذخائر (چشمہ، منگلا اور تربیلا) میں ریت بھر رہی ہے اور وہ اپنی گنجائش کا 25فیصد پہلے ہی کھو چکے ہیں ۔ کالا باغ کا ڈیزائن بالکل تیار ہے ۔ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت محسوس کرتی ہیں کہ ان منصوبوں پر فوری عملدرآمد کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان میں آبی وسائل کی دستیابی اور ان کی ترقی بتدریج ایک بحران کی شکل اختیار کرتی رہی ہے اور اب اس نے ایک ایسے گھمبیر بین الصوبائی تنازع کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس سے نمٹنے کی فوری ضرورت ہے ۔ اس کا حل پانی سے متعلق وعدوں کی پابندی کے لئے سیاسی عزم پیدا کرنے میں پنہاں ہے ۔ پانی سے تعلق رکھنے والے پیشہ وارانہ ماہرین کو وسیع تر سماجی، معاشی اور سیاسی تناظر کے بہتر فہم کی ضرورت ہے اور سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ آبی وسائل کے معاملات کے ہر پہلو سے مکمل آگہی رکھیں ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اور بالخصوص اراکین پارلیمنٹ کو اب ان مسائل پر کام کرنا چاہیے ۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے معاہدہ، کوٹری سے نیچے سمندر کو جانے والے پانی کی حد کے تعین کے لئے کی جانے والی سٹڈی کی ٹرم آف ریفرنس، ترقی یافتہ ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب، پانی کا تحفظ، آبپاشی کی جدید تکنیکوں اور ٹیکنالوجیز کا استعمال، سیلابوں اور خشک سالی کی پیشگی اطلاع دینے والی جدید ٹیکنالوجی کا حصول، پانی کے معیار کی اصلاح جو اس وقت صحت عامہ کے لئے مضر ہے زمینی پانی نکالنے کی جدید تکینکوں کا اپنانا، پہاڑی ریلوں سے بہاؤ کے ذریعے آنے والے پانی کو جمع کرنا، پانی کی آلودگی کا انسداد، پانی کے شعبے میں ادارتی ڈھانچے کی اصلاح،پانی سے متعلق جامع قانون کی تیاری اور سطح زمین پرپانی کا انتظام بہتر بنانا ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو تنازعات کے حل کےلئے مشترکہ مفادات کی کونسل جیسے آئینی میکانزم کو فعال بنانا چاہیے ۔