- الإعلانات -

امریکا نے پاکستان سے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا مطالبہ کردیا

واشنگٹن: مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات کو سمجھے، جبکہ امریکا نے پاکستان سے اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔

واشنگٹن میں پاک-امریکا اسٹریٹجک مذاکرات کے افتتاحی اجلاس کے دوران امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے کہا کہ جوہری تحفظ پر بلاشبہ دونوں ممالک کے خدشات موجود ہیں، تاہم انھیں امید ہے کہ اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب امریکا اور روس کے پاس 50، 50 ہزار سے زائد ایٹمی ہتھیار تھے، لیکن اب دونوں ممالک کے پاس صرف 15، 15 سو ایٹمی ہتھیار ہیں اور ہم ان میں مزید کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے کو حقیقی معنوں میں اپنی پالیسی کا حصہ بنائے، جبکہ خواہش ہے کہ آئندہ ماہ جوہری سیکیورٹی کانفرنس میں وزیر اعظم نواز شریف شرکت کریں۔

جان کیری نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں نے واضح کردیا ہے کہ دہشت گرد انہیں ترقی سے نہیں روک سکتے۔

مذاکرات کے دوران پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی یکطرفہ روک تھام کو قبول نہیں کرے گا، جوہری ہتھیاروں میں کمی کا مطالبہ ہندوستان کے سامنے بھی اٹھایا جانا چاہیے، جبکہ امریکا کو پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات کو بھی سمجھنا چاہیے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کے حوالے سے پاکستانی موقف کی توثیق پر امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ایف 16 طیاروں کا موثر استعمال کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف سولہ طیاروں سے پاکستان کی آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ باہمی مفادات اور خطے کے استحکام کے لیے ان آپریشنز کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کا خواہاں ہے لیکن دیگرحکومتیں بھی امن عمل کی حمایت کریں۔