- الإعلانات -

ہندوستان داعش کو بارودی مواد فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے

لندن: یورپی تحقیقی ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان شام و عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش کو بلاواسطہ بارودی مواد فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

یورپی تحقیقی ادارے ’کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ‘ کی 20 ماہ کی تحقیقات کے بعد تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 ممالک کی 51 کمپنیاں داعش کو دھماکا خیز مواد میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور اجزا فراہم کرتی ہیں۔

ان ممالک میں داعش کے خلاف جنگ کرنے والا سب سے بڑا ملک امریکا بھی شامل ہے۔

ہندوستان اور امریکا کے ساتھ ساتھ ترکی، برازیل، بیلجیئم، نیدرلینڈ اور جاپان بھی فہرست کا حصہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی 7 لائسنس یافتہ اسلحہ ساز کمپنیاں دھماکا خیز مواد ترکی اور لبنان بھجواتی ہیں، جہاں سے اسے داعش کے شدت پسندوں میں تقسیم کے لیے شام بھیجا جاتا ہے۔

ہندوستان کی جانب سے سپلائی کیے جانے والے ’امونیم نائٹریٹ‘ اور ’ڈیٹونیٹرز‘ کو داعش کے شدت پسند خطرناک بم بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔

ترکی کی 13 کمپنیاں وہ اجزا بناتی ہیں جنہیں ریموٹ کنٹرول بم بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے، ان میں کیمیکل اجزا، ڈیٹونیٹرز اور مختلف طرح کی تاریں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دھماکا خیز مواد بنانے میں استعمال ہونے والے کئی کیمیکلز اور اجزا عراقی کمپنیاں بھی بناتی ہیں جنہیں داعش استعمال کرتی ہے۔

امریکا، جاپان اور سوئٹزرلینڈ کی متعدد کمپنیوں کے تیار کردہ مائیکرو کنٹرولرز اور ٹرانزسٹرز بھی عراق و شام میں داعش تک پہنچتے ہیں، جنہیں آئی ای ڈی بم بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کمپنیوں کی جانب سے تیار کیے جانے والے کئی کیمیکلز ایسے بھی ہیں جو بم بنانے کے علاوہ دیگر امور میں کام آتے ہیں، لیکن ان کا غلط استعمال ہزاروں لوگوں کی جان لینے کا باعث بنتا ہے۔