- الإعلانات -

عشرت جہاں کو پولیس حراست میں مارا گیا "تفتیشی افسر”

نئی دہلی: ہندوستانی پولیس کے تفتیشی افسر کے ایک بیان نے ملک میں ہل چل پیدا کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گجرات میں وزیراعظم نریندر مودی کی وزارت کے دور میں ہلاک ہونے والی 19 سالہ کالج کی طالبہ عشرت جہاں کو پولیس حراست میں مارا گیا.

پولیس افسر ستیش ورما، جو سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کی مدد سے 2004 میں گجرات میں ہونے والے جعلی پولیس مقابلے کی تحقیقات میں شامل تھے، نے آخرکار اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے حال ہی میں ایک ہندوستانی اخبار کو بتایا ہے کہ مسلمان لڑکی کا قتل پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔

ستیش ورما نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ‘تفتیش سے معلوم ہوا کہ جعلی پولیس مقابلے سے قبل عشرت اور دیگر 3 افراد کو ہندوستان کی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے حراست میں لیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی بی کو ایسی کوئی اطلاعات نہیں ملی تھیں کہ ایک خاتون مبینہ دہشت گردوں کو مدد فراہم کررہی ہے۔ عشرت کے حوالے سے کوئی اطلاعات موجود نہیں تھیں۔ ان لوگوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور پھر گولی مار دی گئی’۔

انھوں نے کہا کہ وہ اُس خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ تھے جسے گجرات ہائیکورٹ نے مذکورہ کیس کی تحیققات کے لیے مقرر کیا تھا۔

خیال رہے کہ 15 جولائی 2004 کو عشرت جہاں کو دیگر 3 افراد سمیت احمد آباد کے مضافات میں قتل کردیا گیا تھا۔ ان سب پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ لشکر طیبہ کے رکن تھے۔

گزشتہ ہفتے ہندوستان کے سابق ہوم سیکریٹری جی کے پیلائی نے ٹائمز کو بتایا تھا کہ مبینہ لشکر طیبہ کے گروپ کو 2004 میں گجرات میں آئی بی کی جانب سے لالچ دیا گیا تھا۔

ستیش ورما کا کہنا تھا، ‘یہاں قوم پرستی اور امن کے نام پر ایک غریب اور معصوم لڑکی کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاسکے جس میں مذکورہ جرم کرنے والوں کے لیے سازگار نتائج فراہم کیے جاسکیں۔ عدالتوں کی جانب سے اسے جعلی مقابلہ قرار دیئے جانے کے باوجود وزارت داخلہ نے آئی بی افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور پابندی لگانے کو مسترد کردیا ہے کہ پابندیوں کی کوئی ضرورت نہیں’۔

انھوں نے جی کے پیلائی کے دعوے کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ انٹیلی جنس افسر نہیں تھے، واضح رہے کہ سابق ہوم منسٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کیس کی تمام تفصیلات سے واقف ہیں۔

ستیش ورما نے سابق یونین ہوم منسٹر کے ماتحت سیکریٹری آر وی ایس مانی کے الزامات کی بھی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے سیکریٹری کو جلتی ہوئی سگریٹ کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔