- الإعلانات -

ایم کیوایم کے استعفے: حکومت دوراہے پر

ایم کیو ایم کے اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی، سینٹ اور سندھ اسمبلی سے مستعفی ہونے کا معاملہ لٹک گیا ہے۔ سیاسی راہنماؤں کی جانب سے دباؤ کے بعدحکومت متحدہ سے بات چیت کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیرپانی و بجلی خواجہ آصفنے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ارکان کے استعفے ابھی منظور نہیں ہوئے، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کابیان آیاہے کہ حکومت تحفظات دور کرے تو استعفے واپس لے سکتے ہیں،تو حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے گی۔خواجہ آصف کا مزید کہنا ہے کہ اسپیکر نے صرف پراسس کا لفظ لکھا ہے، استعفے ابھی منظور نہیں ہوئے، اسپیکر کو جتنا تاخیر کرنے کا اختیار ہے، اتنی تاخیر کریں گے۔ دوسری جانب جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ تاحال ایم کیو ایم کے اراکین کے استعفے قبول نہیں کیے گئے۔ اس معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ سینٹ کے چئیر مین اور سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی نے بھی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر مزید کارروائی کا بیان دیا ہے۔