- الإعلانات -

امریکہ نے چین کا راستہ روکنے کیلئے کارروائیاں شروع کر دیں

بیجنگ: چین کی قومی سلامتی کو اس سال اہم چیلنجز درپیش ہیں ، غیر مستحکم کرنے والے عناصر نے چین کی قومی سلامتی کے معاملات پر دباﺅ بڑھانا شروع کر دیا ہے ، ان میں کوریا کے جزائر میں ایٹمی مسئلہ اور جنوبی چینی سمندروں میں کشیدگی کو ہوا دی جارہی ہے ،چین کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنے کے لئے امریکہ نے بالواسطہ اور براہ راست کارروائیاں شروع کر دی ہیں ۔سینئر سفارتکاروں اور پالیسی پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے لئے سب سے بڑا مسئلہ رواں سال یہ ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات میں استحکام پیدا کرے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ چین کے ان منصوبوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں جو وہ عالمی سطح پر مکمل کرنا چاہتا ہے ، ان میں جی20رہنماﺅں کی ستمبر میں ہونے والی کانفرنس بھی شامل ہے ۔چین کے جاپان میں سفیر اور سیاسی مشیر چینگ یانگ ہو نے کہا کہ جہاں تک ہمسایوں کے ساتھ سلامتی اور استحکام پر نظر رکھنے کا سوال ہے ،میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے ارد گرد حالات کو مستحکم رکھنے اور محفوظ رہنے کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے ۔انہو ں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ہمیں چین کی اندرون ملک ترقی اور تعمیر کے عمل کو بھی پروگرام کے مطابق یقینی بنانا چاہئے ۔ایک اور سینئر مشیر ژانگ ین لنگ نے کہا ہے کہ چین کے مغرب اور شمال میں علاقے اس سال پر سکون رہیں گے تا ہم چین کو کوریائی جزائر اور جنوبی چینی سمندر میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ چینی جزائر میں تعمیراتی کام اور جنوبی چینی سمندر میں دفاعی سہولتوں کی فراہمی امریکہ کی طرف سے تنقید اور فوجی اشتعال کا باعث بن رہی ہے ، امریکہ چین کو جنوبی چینی سمندروں میں قانونی طورپر کام کرنے سے روکنے کے لئے مظاہروں اور اشتعال سے کام لے رہا ہے ، چین کے لئے اس سال سب سے بڑا چیلنج امریکی دھمکیوں کے باوجود صورتحال کو قابو میں رکھنا ہو گا ۔ژانگ نے تجویز پیش کی ہے کہ چین کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے اتحاد کو زیادہ فعال بنانا چاہئے کیونکہ وہ قابل اعتماد ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان معاملات سے متعلقہ چین کی پالیسی واضح ہونی چاہئے ۔ کوریا ئی جزائر کا حوالے دیتے ہوئے ژانگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق قرارداد جس کی چین نے بھی حمایت کی ہے بہتر نتائج دے گی اور اس سے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے میں مدد ملے گی اور توقع ہے کہ جزائر میں موجود بڑے تنازعات سے بچا جا سکے گا ، چین کو ان تمام فریقوں کے ساتھ رابطہ بڑھانا چاہئے جو اس قرارداد پر کام کرتے رہے ہیں تا ہم اس کے باوجود ایک اور بحران بھی نظر آرہا ہے اس کے لئے ابھی سے ایک موثر منصوبہ تشکیل دینا چاہئے ۔ایک روسی سیاسی ماہرنے کہا ہے کہ چین کو جو بھی چیلنج درپیش ہیں جن میں جزائر اور سمندری معاملات شامل ہیں ان کو ہوا دینے میں براہ راست یا بالواسطہ امریکہ شامل ہے کیونکہ ایشیا اس کی پالیسی کا بنیادی محور ہے ،امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی طویل المیعاد منصوبہ بندی ہے خواہ الیکشن کوئی بھی جیت جائے وہ چین کے بارے میں اس پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گا تا ہم بد قسمتی سے ہمیں مستقبل میں چین اور امریکہ کے درمیان یہ تنازعہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے.