- الإعلانات -

امریکہ اور روس بھارت سے ہاتھ کر گئے

انڈیا کی جانب سے سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے بھارتی خواب کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکہ سمیت روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں نے سلامتی کونسل کی توسیع کے لیے ہونے والے مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔ ان ممالک نے سلامتی کونسل کی توسیع کے لیے بنیادی ڈرافٹ میں حصہ ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سام کتسا ن سلامتی کونسل کی توسیع کے سلسلے میں بنیادی ڈرافٹ کی تیاری کے لیے ایک پیغام تمام ممالک کے نمائندوں کو بھیجا تھا۔ انہوں نے جمیکا کے مستقل مندوب کو یہ ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ وہ ان کی جگہ سلامتی کونسل کی توسیع کے لیے ہونے والے بین الحکومتی مذاکرات کی صدارت کریں۔ اس معاملے میں امریکہ کی مستقل مندوب سمانتھا پاور نے جنرل اسمبلی کے صدر کو جوابی خط میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ اصولی طور پر جنرل و سلامتی کونسل میں توسیع کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم سلامتی کونسل میں توسیع کے سلسلے میں اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ اس کا انحصار عالمی امن میں ملکوں کے حصے داری پر ہو۔ اس کے علاوہ امریکہ ویٹو کے اختیار میں توسیع یا اس میں اضافے کی مخالفت کرتا رہے گا۔ ‘‘ ماہرین نے اس طرح کے جواب کو امریکہ کا دہران پن قرار دیا ہے کیوں کہ امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھارت سے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے معاملے پر انڈیا کی حمایت کرے گا۔ روس نے بھی جو انڈیا کی جانب سے سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے حصول کا حمایتی تھا کچھ اس سے ملتا جلتا جواب دیا ہے۔ روس کے مستقل مندوب نے بھی اپنے خط میں ویٹو کے اختیار پر کسی بھی قسم کی اصلاحات کی مخالفت کی ہے۔