- الإعلانات -

شام میں ڈھائی لاکھ بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑے ہوئے ہیں

دمشق :  بچوں کے حقوق کی تنظیم سیودی چلڈرن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شام سے یورپی اور دوسرے ممالک فرار ہونے والے لوگوں نے تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا،اس تنظیم کے مطابق اس وقت ان بچوں کو اپنے بل بوتے پر کھانے، ادویات اور بجلی کی قلت کا سامنا کرتے پڑ رہا ہے۔ تنظیم کی سربراہ ٹانا سٹیل نے بتایا کہ گھر والوں کی طرف سے چھوڑے گئے بچوں کو پکی ہوئی گھاس اور گھریلو جانوروں کا خوراک کھانا پڑ رہا ہے۔ ان بچوں میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے کبھی گوشت اور پھل نہیں کھائے۔ ایسے حالات میں پھنسنے والے تقریباً 650 بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔