- الإعلانات -

امریکہ نے داعش کے وزیر جنگ ابو عمر الشیشانی کےمارے جانے کی تصدیق کردی

نیویارک/ لندن: امریکی حکام نے شام میںڈرون حملے کے دوران داعش کے وزیر جنگ ابو عمر الشیشانی کے دیگر 12 جنگجوﺅں کے ساتھ مارے جانے کی تصدیق کردی۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ میں اہم ذمہ داریاں ادا کرنے والے 2 حکام نے ابو عمر الشیشانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ امریکی فضائی کارروائی میں داعش کے اہم کمانڈر زخمی ہوئے تھے، جو اب ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم ان کی ہلاکت کن حالات میں ہوئی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ابو عمر الشیشانی کے ہمراہ داعش کے دیگر 12 افراد کی ہلاکت کا بھی دعوی کیا گیا تھا۔سی این این کے مطابق جس وقت ابو عمر الشیشانی کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا وہ شوری کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے، امریکا کی جانب سے ابتدا میں ہلاکت کا دعوی اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ ان کا کمیونیکیشن نظام مکمل طور پر خاموش ہو گیا تھا جس سے امریکی حکام یہی سمجھے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔بو عمر الشیشانی رقہ کے غیر اعلانیہ دارالحکومت الشدادی میں داعش کے جنگجوں سے ملاقات کے لیے گئے تھے، اس علاقے میں اتحادی ممالک کے ڈرون حملوں اور فضائی کارروائی کے ذریعے شدت پسند تنظیم کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا دعوی کیا جاتا رہا ہے۔دوسری جانب برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق لندن میں قائم شام کی انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رمی عبد الرحمن کا کہنا تھا کہ الشیشانی اب سانس لینے کے قابل نہیں ہیں، ان کو مصنوعی طریقے سے زندہ رکھنے کے لیے طبی مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، وہ کئی روز پہلے طبی طور ہلاک ہو چکے ہیں۔واضح امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا ماننا ہے کہ شام میں امریکا کی اتحادی افواج کے ہاتھوں شکست کے بعد الشیشانی کو داعش کی مدد کے لیے بھیجا گیا۔9 مارچ کو پہلی بار الشیشانی کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آنے کے بعد پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے بتایا تھا کہ امریکی فوج کی فضائی کارروائی کے نتائج اہمیت کے حامل ہوں گے، الشیشانی کی ہلاکت سے داعش کی رابطوں اور مضبوط ٹھکانوں کی حفاظت کی صلاحیت متاثر ہوگی جبکہ غیر ملکی جنگجوں کو بھرتی کرنے کے عمل کو بھی نقصان پہنچے گا۔الشیشانی کو پینٹاگون کی جانب سے داعش کا ‘وزیرِ جنگ’ قرار دیا گیا، جو شام اور عراق میں متعدد مقامات پر داعش کے جنگجوں کی سربراہی کرچکے ہیں۔ابو عمر الشیشانی امریکا کو مطلوب عسکریت پسندوں کی فہرست میں شامل تھے، جن کی اطلاع دینے پر 5 ملین ڈالر(تقریبا 52 کروڑ پاکستانی روپے) کی پیشکش کی جاچکی ہے۔وہ روس میں بھی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔یاد رہے کہ داعش نے جون 2014 میں شام اور عراق میں وسیع رقبے پر قبضہ کرکے وہاں خود ساختہ خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا اور ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا۔