- الإعلانات -

خود کو اڑانا چاہتا تھا لیکن ارادہ بدل دیا

فرانسیسی استغاثہ کے مطابق پیرس حملوں کے ملزم صالح عبدالسلام نے تسلیم کیا ہے کہ وہ خود کو دھماکے سے اڑانا چاہتے تھے لیکن پھر انھوں نے ارادہ بدل دیا۔

جمعے کو ڈرامائی گرفتاری کے ایک دن بعد عبدالسلام پر بیلجیئم میں دہشت گردی کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

عبدالسلام کے وکیل نے کہا کہ وہ پولیس سے تعاون کر رہے ہیں، البتہ خود کو فرانس کے حوالے کیے جانے کے خلاف قانونی جنگ لڑیں گے ۔

نومبر 2015 میں پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں میں 130 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ حملوں کی رات پیرس میں موجود تھے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان حملوں میں اُن کا کردار کیا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حملوں کے فوراً بعد وہ وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔

بیلجیئم کے وفاقی استغاثہ کے دفتر نے کہا ہے کہ عبدالسلام پر دہشت گردانہ قتل و غارت میں ملوث ہونے اور دہشت گرد تنظیم کی کارروائیوں میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پیرس کے افسرِ استغاثہ فرانسوا مولن نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ ’آج صالح عبدالسلام نے (بیلجیئن حکام کی جانب سے) پوچھ گچھ کے دوران تصدیق کی ہے کہ وہ بقول ان کے ’فرانس سٹیڈیم میں خود کو دھماکے سے اڑانا چاہتے تھے لیکن بعد میں ارادہ بدل دیا۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ عبدالسلام کی باتوں پر احتیاط سے غور کیا جائے گا۔

26 سالہ عبدالسلام فرانسیسی شہری ہیں اور وہ چار مہینے مفرور رہنے کے بعد جمعے کو برسلز میں گرفتاری کے بعد سے بیلجیئم میں زیرِ حراست ہیں۔

حکام کو توقع ہے کہ عبدالسلام سے تفتیش کے دوران دولتِ اسلامیہ کے نیٹ ورک، اس کی مالیات اور منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ عبدالسلام پیرس میں حملوں کے فوراً بعد وہاں سے فرار ہو کر بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے مولن بیک علاقے میں جا چھپے تھے۔