- الإعلانات -

بیلجیئم ، دارالحکومت برسلز یکے بعددیگرے بم دھماکوں سے گونج اٹھا،27ہلاک ،100سے زائد زخمی

برسلز: بیلجیئم کا دارالحکومت برسلز یکے بعد دیگرے متعدددھماکوں سے گونج اٹھا ،زیوینٹم ایئرپورٹ پر دو اورمیٹروسٹیشن پر چار بم دھماکوں میں 27افراد ہلاک اور100سے زائد زخمی ہو گئے ، ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ،دھماکوں کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی،ایئرپورٹ اور میٹروسٹیشن کی ارد گرد کی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ، عوام کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کردی گئیں جبکہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ،جرمنی ،چین ، روس اورپاکستان سمیت متعدد ممالک نے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیلجئم کے دارالحکومت برسلز کے زیوینٹم ائیرپورٹ پر امریکی ائیر لائن کے کاؤنٹر کے قریب 2 اور میٹرومال بیک اسٹیشن پرزور دار ایک دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک اور100 زخمی ہوگئے جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، دھماکوں کے بعدشہربھر کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے ائیر پورٹ اور ارد گرد کی عمارتون کو خالی کروا لیا گیاجبکہ تمام میٹرواسٹیشن اور فضائی آپریشن بند کردیا گیا۔حکام کے مطابق برسلز کے زیوینٹم ایئرپورٹ پر دونوں دھماکے ڈیپارچر ہال میں امریکی کاؤنٹر کے قریب ہوئے جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی، جبکہ ایئرپورٹ پر مزید بموں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں پر سرچ آپریشن کے گیا کے دروا ن اور بم بھی برآمد کر لیے گئے۔ دھماکوں کے بعد سیکیورٹی فورسزکی بھاری نفری ائیرپورٹ پہنچ گئی اوروہاں موجود افراد کو نکالنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کردیا۔برسلز سے روانہ ہونے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ برسلز پہنچنے والی تمام پروازوں کا رْخ موڑ دیا گیا ہے۔ اِدھر فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر ایسی متعدد پروازوں کو اتارا جائے گا جنہیں اصل میں برسلز ایئرپورٹ پر اترنا تھا۔ایئرپورٹ پر یہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے، جب وہاں بہت زیادہ رَش تھا۔ بیلجیم بھر میں دہشت گردی کی سب سے بلند درجے کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔دھماکوں کے وقت برسلز ایئر پورٹ پر موجود ایک امریکی خاتون ڈینیس برانٹ نے سکائی ٹیلی وڑن چینل سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ’’میں جان گئی تھی کہ یہ دھماکا ہے کیونکہ میں پہلے بھی اپنے قریب ہونے والے دھماکوں کا تجربہ کر چکی ہوں۔ مَیں نے دھماکے کو اپنے پورے وجود کے ساتھ محسوس کیا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور میں نے کہا کہ آؤ، ادھر سے چلتے ہیں۔ بس میری چھٹی حس نے کہا کہ وہاں سے دور بھاگنا ہے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ لوگ دوڑتے اور چلاتے ہوئے ہماری طرف آ رہے ہیں۔ تب ہم جان گئے کہ ہم ٹھیک سمت میں اور دھماکوں کی جگہ سے دور جا رہے ہیں۔دریں اثناء برسلز کی زیر زمین ریلوے کے ایک اسٹیشن پر بھی، جو یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر سے بہت نزدیک ہے، ایک دھماکا ہوا ہے، جس کے بعد زیر زمین ریلوے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ٹی وی فوٹیج میں مالبیک اسٹیشن کے داخلی دروازے سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس دھماکے میں بھی 12 افرادہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔مقامی پبلک براڈکاسٹر آر ٹی بی ایف نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد افراد کو زخم آئے ہیں۔غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ابھی تک ان دھماکوں کی وجہ واضح نہیں ہے، اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے ایئرپورٹ کے ڈیپارچر لاؤنج میں امیریکن ایئرلائنز کے ڈیسک کے قریب ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں کے فوراً بعد پولیس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہوائی اڈے کے ساتھ ریل رابطہ منقطع کر دیا گیا۔انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن پر تاحال جو تصاویر جاری کی گئی ہیں، اْن میں عمارت سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے اور بڑی بڑی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مقامی خبر رساں ادارے بیلگا کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ایئر پورٹ کی عمارت سے مسافروں کو باہر نکالا جا رہا ہے۔بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کے ہوائی اڈے پر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ان دھماکوں سے چند ہی روز پہلے پولیس نے برسلز میں ایک ڈرامائی کارروائی کرتے ہوئے صالح عبدالسلام نامی ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا تھا۔ صالح عبدالسلام کو پیرس میں گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے اْن دہشت گردانہ حملوں کا مرکزی ملزم تصور کیا جاتا ہے، جن میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ چار ماہ سے مفرور اس ملزم کی گرفتاری کے بعد سے ہی ایسے کسی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر حفاظتی انتظامات سخت تر بنا دیے گئے تھے۔برسلز نہ صرف بیلجیم کا دارالحکومت ہے بلکہ اٹھائیس رکنی یورپی یونین کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ یہیں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا بھی ہیڈکوارٹر ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یکے بعد دیگر دھماکوں میں جانی نقصان پر اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی سے نمٹنے متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہو گی ، معصوم لوگوں کا قتل عام قابل مذمت ہے ، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے برسلز کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں ۔صدر مملکت ممنون حسین کہا کہ برسلز میں یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں ہونیوالاجانی و مالی نقصان انتہائی افسوسناک ہے اور دہشت گردی کے واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ، پاکستان دہشت گردی کسی بھی شکل کی مذمت کرتا ہے اور برسلز کی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے ۔حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان برسلز حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے ۔بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی دھماکوں کی مذمت اور ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے ۔ امریکی صدر باراک اوبامہ سمیت دیگر امریکی حکام نے بھی دھماکوں میں جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے ، تاہم باقاعدہ تفصیلی بیان وائٹ ہاؤس کی طرف سے بعد میں جاری کیا جائے گا۔ادھر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے برسلز کو اپنے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے ، ڈیوڈ کیمرون نے کہاکہ دہشت گردی کے حملے میں معصوم جانوں کے ضیاع افسوسناک ہے ، دہشت گرد ایسے حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔