- الإعلانات -

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں داعش کے زیر قبضہ قصبے القریتین میں داخل ہوگئی

دمشق ۔ شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں تاریخی شہر تدمر میں فتح کے بعد داعش کے زیر قبضہ قصبے القریتین میں داخل ہوگئی ہیں۔انھیں داعش کے خلاف اس لڑائی میں روسی فضائیہ کی مدد حاصل ہے۔القریتین وسطی صوبے حمص میں تدمر سے ایک سو کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔اس قصبے پر داعش کے جنگجوو¿ں نے گذشتہ سال اگست سے قبضہ کررکھا ہے۔شامی فورسز نے گذشتہ اتوار کو داعش کو شکست دینے کے بعد تدمر پر قبضہ کر لیا تھا۔شام کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ فوج مختلف سمتوں سے القریتین میں داخل ہوئی ہے۔اس کا اب قصبے کے شمالی حصے پر کنٹرول ہوچکا ہے اور وہ داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے کا کام کررہی ہے۔داعشی جنگجوو¿ں نے تدمر سے پسپا ہوتے ہوئے اس علاقے میں ہزاروں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں اور اب شامی فوج شہریوں کی واپسی سے قبل انھیں صاف کررہی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کی اطلاع کے مطابق ”داعش اور اسدی فوج کے درمیان القریتین میں لڑائی جاری ہے۔عملی طور پر یہ قصبہ داعش کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے کیونکہ رجیم کا نواحی پہاڑیوں پر کنٹرول ہو گیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ روسی اور شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے القریتین کے نزدیک واقع علاقوں پر چالیس سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔یہ قصبہ پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے۔