- الإعلانات -

پشاور ہائی کورٹ نےفوجی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا

peshawar-high-court

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والے طالب علم کی سزا معطل کردی ہے.مالاکنڈ پبلک اسکول میں نویں جماعت کے طالب علم حیدر علی کو 2009 میں سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا اور اس پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام تھا.

طالب علم کے والد ظاہر شاہ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ حیدر کو 2009 میں 14 سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ فوجی حکام کے مطالبے پر حیدر علی کو پیش کیا گیا۔

درخواست کے مطابق حیدر علی کی گرفتاری کے 6 سال بعد معلوم ہوا کہ وہ لوئر دیر کی تیمرگرہ جیل میں قید ہے اور اسے فوجی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے، لہذا اس فیصلے پر عملدرآمد کو فی الفور روکا جائے.منگل کو جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس یونس تھیم پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے طالب علم کی سزائے موت پر عمل درآمد 8 ستمبر تک روکنے کا حکم جاری کردیا.بعد ازاں عدالت نے وفاق، سیکرٹری دفاع، جی او سی مالاکنڈ اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی.