- الإعلانات -

بھارت میں 33کروڑ سے زائد کی زندگیاں داﺅپر لگ گئیں

حکومت کے اعدادو شمار کے مطابق 33کروڑ سے زائد آبادی قحط سالی کا شکار ہے ایک تہائی سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی ،کھانے پینے کی اشیاء حاصل نہیں ہیں ملک کے 678اضلاع میں سے 254قحط سالی کی شدید لپیٹ میں ہے جن میں سب سے زیادہ متاثر ریاست اتر پردیش ہے جہاں بارشیں نہ ہونے سے 50اضلاع کے 9کروڑ 88لاکھ افراد قحط سالی کا شکار ہیں سابق بھارتی ریلوئے وزیر لالو پرشاد یادیو نے نریندر مودی حکومت کو بھارت کیلئے منحوس قرار دیا تھا مودی سرکار بننے کے بعد بھارت میں قحط سالی عروج پر پہنچ چکی ہے بھارت کی 10ریاستوں کی طرف سے موصولہ ریکارڈ کے مطابق قحط سالی پر قابو پانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے قحط زدہ گجرات کا ریکارڈ حکام کو پیش نہیں کیا گیا جبکہ 637دیہاتوں میں پانی کی شدید قلت ہے ادھر 12ریاستوں اترپردیش ،کرناٹک ،مدھیہ پردیش ،تلنگانہ ،مہاراشٹر ،گجرات ،اڑیسہ ،جھاڑ کھنڈ ،ہریانہ ،بہار ،اور چھتیس گڑھ شامل ہیں جہاں قحط سالی سے بچنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے