- الإعلانات -

پٹھان کوٹ حملے میں تحقیقات کرنے والا مسلمان افسر قتل

بنجور : ہندوستان کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی میں تعینات مسلمان ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) محمد تنزیل احمد کو قتل کردیا گیا، قاتلانہ حملے میں ان کی اہلیہ بھی گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں۔

ہندوستانی اخبار دی ہندو کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسر کو اتر پردیش کے ضلع بجنور میں نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کی اہلیہ فرزانہ تشویشناک حالت میں نوائڈا کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سی این این آئی بی این نے بتایا کہ محمد تنزیل احمد پٹھان کوٹ پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کا حصہ تھے، اس کے علاوہ بھی وہ تحقیقاتی ایجنسی کے لیے کئی بڑے آپریشنز میں شامل رہے تھے۔

ٹائمز آف انڈیا نے کہا کہ موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد نے این آئی اے کے مسلمان افسر محمد تنزیل احمد کو گولیاں مار کر اس وقت قتل کیا جب رات کو ایک بجے وہ بھتیجی کی شادی میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے۔

حکام کے مطابق محمد تنزیل احمد کو 21 گولیاں ماری گئیں جن میں سے 10 گولیاں ان کے جسم میں پوسٹ مارٹم کے وقت بھی نکالی گئیں۔

بِجنور کے اسٹیشن ہاؤس افسر(ایس ایچ او) راج کمار کے مطابق حملے میں ان کے 2 بچے محفوظ رہے۔

راج کمار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے کار روک کر ان پر فائرنگ کی جس سے محمد تنزیل احمد موقع پر ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے دونوں بچے گاڑی میں پچھلی نشست پر موجود تھے۔

ہندوستانی خبر رساں ادارے انڈین ایکسپریس کے مطابق این آئی اے کے آئی جی سنجیو کمار نے افسر کے قتل کو منصوبہ بندی کے تحت حملہ قرار دیا۔