- الإعلانات -

مسجد حرام میں تصویر کھنچوانا حرام یا حلال، فتویٰ جاری

سعودی عرب کے سرکردہ علماء کرام نے مسجد حرام میں عبادت کے دوران، طواف کعبہ، سعی اور دیگر مناسک کے دوران تصاویر کھچوانے کو شرعا حرام قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ لوگوں میں تشہیر کی غرض سے تصویر اتارنا عبادت میں اخلاص کی نفی کے مترادف ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق علماء کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لیے مختص ہیں۔ انہیں کسی دنیاوی مقاصد یا تفریحی مشاغل کے لیے استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مساجد میں نماز، تلاوت قرآن پاک اور ذکر خدا وندی کے سوا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا شرعا حرام ہے۔مسجد حرام میں منعقدہ ایک سیمینار کے بعد جاری کردہ مشترکہ فتوے میں کیا گیا ہے کہ مساجد کا تقدس قائم رکھنا ہر مسلمان کا شرعی فریضہ ہے۔ مساجد میں خرید وفروخت، لین دین کرنا یا مسجد کو جسمانی ورزش کے لیے استعمال کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔علماء کرام نے مسجد حرام میں معذور افراد کے لیے کرائے پر وہیل چیئر کی فراہمی کی حمایت کی ہے تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ وہیل چیئر کرائے پر فراہم کرنے والے افراد لین کے تمام امور مسجد کے باہر طے کریں۔علماء کا کہنا تھا کہ مسجد کی راہ داریوں پر بیٹھنا، کھانے پینے کی اشیاء اندر لانا اور خواتین کا مردوں اور مردوں کا خواتین کے لیے مختص مقامات میں بیٹھنا بھی شرعا ممنوع ہے۔خیال رہے کہ علماء کرام نے مسجد حرام میں تصاویر بنوانے کو ایک ایسے وقت میں حرام قرار دیا ہے جب عمرہ اور حج کے دوران عازمین اپنی تصاویراتارنے کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں جس پر مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ اس سے قبل بھی علماء نے مسجد حرام میں تصاویر بنوانا ممنوع قرار دیا ہے.