- الإعلانات -

عدلیہ کو طویل عرصے سے پڑے مقدمات نمٹانے کیلئے 70ہزار جج صاحبان کی ضرورت ہے، چیف جسٹس بھارتی سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ کھ چیف جسٹس جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہاہے کہ ملکی عدلیہ کو طویل عرصے سے پڑے مقدمات نمٹانے کیلئے اس وقت 70ہزار جج صاحبان کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت عدالتوں میں موجود جج صاحبان کی تعداد صرف 18ہزار ہے ۔ بھارتی ریاست اڑیسہ کے شہر کٹک میںہائی کورٹ سرکٹ بینچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ شہریوں کو انصاف کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے اور حکومتیں شہریوں کوان کا یہ حق دینے سے انکار کی متحمل نہیںہو سکتیں۔ انہوںنے کہاکہ انڈین لاءکمیشن نے 1987ءمیں اپنی رپورٹ میں کہاتھاکہ آبادی کے تناسب سے بھارت کو اس وقت 44 ہزار جج صاحبان کی ضرورت ہے لیکن اس رپورٹ کے 29سال بعدبھی بھارتی عدالتوں میں صرف 18ہزار جج صاحبان موجود ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی موجودہ آبادی کے تناسب سے ملک میں اس وقت 77ہزار جج صاحبان کی ضرورت ہے اور حوکمت کو صورتھال سے آگاہ کیاجاچکا ہے۔ واجح رہے کہ بھارتی چیف جسٹس دار الحکومت نئی دہلی مین ایک کانفرنس کے دوران عدالتوں میں جج صاحبان کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں روپڑے تھے۔