- الإعلانات -

ترک میں جماعت اسلامی کے امیر کو پھانسی

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمٰن نظامی کو پھانسی دینے کے بعد ترک حکومت نے ڈھاکا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کی وزارت خارجہ نے ڈھاکا میں موجود اپنے سفیر دیوریم اوز ترک کو مشاورت کی غرض سے وطن واپس بلایا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ترک سفیر انقرہ پہنچ چکے ہیں۔مطیع الرحمان کو 29 اگست 2010ء کو جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کی عمر 71 برس تھی، ان پر نسل کشی، قتل، تشدد اور زیادتی سمیت 16 الزامات عائد کئے گئے تھے۔مطیع الرحمان نظامی بنگلا دیش کی قومی اسمبلی کے رکن، وفاقی وزیر برائے صنعت اور وفاقی وزیر برائے زراعت بھی رہ چکے تھے۔واضح رہے کہ 1971ء میں بنگلا دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے دوران جماعت اسلامی نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا جس پر 40 سال بعد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ایک متنازع جنگی ٹریبیونل تشکیل دیا جس سے جماعت اسلامی اور بی این پی کے رہنماؤں کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔