- الإعلانات -

جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کا تجربہ، پاکستان پر دباؤ

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے طور پر کام کرنے والے ادارے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کے حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے دشمن پر ‘جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت’ کے تجربے سے پاکستان پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

ایس پی ڈی کے ایک عہدیدار نے دی سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹیرٹیجک اسٹیڈیز( سی آئی ایس ایس) کی جانب سے جنوبی ایشیاء میں جوہری استحکام کے حوالے سے بڑھتے ہوئے چیلنجز پر ہونے والے ایک مباحثے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہندوستان کی جانب سے جوابی حملہ کرنے کی صلاحت کے حالیہ تجربے کے باعث پاکستان پر اس کی جوہری صلاحیت کی تیاری میں دباؤ بڑھے گا”۔

خیال رہے کہ ہندوستان نے گزشتہ ماہ جوہری صلاحیت کے حامل کے-4 سب میرین بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا، جو مخالف پر فوری حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان نے ہندوستان کے اس اقدام پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے تشویشناک قرار دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سب میرین بلیسٹک میزائل کے اس تجربے اور جوہری آبدوز کی تیاری ایک خطرناک اقدام ہے، جو خطے میں اسٹریٹجک توازن پر اثر انداز ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے سابق سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی نے ہندوستان کے خلاف سب میرین سے اسی قسم کے جوہری میزائل کے تجربے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم، دفاعی تجزیہ کاروں نے جنرل نعیم کے اس دعوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ جوابی حملے کی صلاحیت اور توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ابھی تک اسے کسی بھی سب میرین میزائل کا تجربہ نہیں کیا گیا۔