- الإعلانات -

امریکہ کا دھماکہ خیز اعلان, سعودی عرب حکومت کے خلاف مقدمہ کرنے کا فیصلہ

سعودی عرب کی دھمکیاں کام نہ آئیں،امریکہ کا دھماکہ خیز اعلان،دنیامیں ہلچل مچ گئی، تفصیلات کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب کی سرمایہ نکالنے کی دھمکیوں کو نظراندازکرتے ہوئے گیارہ ستمبر کے متاثرین کو سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ کرنے کا حق دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ،اب سعودی حکومت کے خلاف گیارہ ستمبر کے متاثرین امریکی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرسکیں گے ۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور ایک بار پھر امریکہ اورسعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ اس مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان سات دہائیوں سے زیادہ پر محیط باہمی تعلقات اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے واشنگٹن کے دورہ کے دوران اس بل کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔ انہوں نے وزیر خارجہ جان کیری اور کانگریس کے اراکین سے ملاقاتوں میں سعودی وزیر خارجہ شاہ سلمان کا یہ پیغام امریکی سیاستدانوں کو پہنچایا تھا کہ اگر ایسا کیا تو سعودی عرب، امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری ختم کرنے اور مختلف شعبوں میں لگے ہوئے ساڑھے سات سو ارب ڈالر نکالنے پر مجبور ہو جائے گا۔  اگرچہ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کے لئے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔سعودی عرب پر 9/11 کے دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات گزشتہ پندرہ برس سے امریکہ میں کسی نہ کسی طرح سے گردش کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ 9/11 کمیشن نے جو رپورٹ تیار کی تھی اس میں سعودی عرب کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ شواہد سامنے نہیں آئے کہ سعودی عرب کی حکومت یا اعلیٰ عہدیدار دہشت گردوں کی براہ راست مدد کرنے میں ملوث تھے۔ سعودی عرب اور امریکی حکومت اس سے یہی نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ کمیشن نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم 2002 میں کانگریس نے 9/11 سانحہ کے بارے میں ایک علیحدہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کی تھی۔ 900 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے 28 صفحات کو سابق صدر بش کی حکومت نے کلاسیفائیڈ قرار دیتے ہوئے شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب ان 28 صفحات میں پوشیدہ ہے کہ کیا سعودی حکام کسی طرح القاعدہ اور 9/11 کے حملوں میں ملوث حملہ آوروں کی اعانت میں ملوث تھے۔