- الإعلانات -

’دوستی ختم دوشمنی شروع ۔۔۔‘ چین کی امریکہ کو للکار

بیجنگ بحیرہ جنوبی چین پر غلبے کی جنگ میں امریکہ اور چین میں کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور امریکہ کے بحری بیڑے اور جاسوس اور جنگی ہوائی جہاز بار بار اس علاقے میں چینی حدود کے انتہائی قریب جا رہے ہیں۔ ایسے پے درپے واقعات کے بعد اب بالآخر چین نے امریکہ کو کھل کر للکار دیا ہے
سی این این کی رپورٹ کے مطابق چین کے نائب وزیرخارجہ لیو ژین من نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر امریکہ بحرجنوبی چین میں اس طرح کی اشتعال انگیزی سے باز نہیں آتا تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔“لیوژین من کا مزید کہنا تھا کہ ”چین کے عوام جنگ نہیں چاہتے۔ لہٰذا امریکہ اگر تصادم چاہتا ہے تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ لیکن اگر امریکہ کوریا اور ویت نام کی جنگوں کی طرح جنگ کرنا چاہتا ہے تو یقینا ہم اپنا دفاع کریں گے۔ہمارے تجارتی سامان اور توانائی کی نقل و حمل کا زیادہ تر انحصار بحرجنوبی چین پر ہے۔ سمندر کا یہ حصہ ہمارے لیے تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔امریکہ ہمارے اردگرد اپنے فوجی اڈے قائم کرکے ہمارا گھیراﺅ نہیں کر سکتا۔ہم نے 30سال پہلے بھی ایسا نہیں کیا اور اب بھی نہیں کر رہے۔امریکہ ہم پر الزام لگاتا ہے کہ ہم بحرجنوبی چین میں کشیدگی بڑھا رہے ہیں جبکہ چینی عوام اور حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس معاملے میں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کو اب تسلیم کرنا ہو گا کہ اب وقت تبدیل ہو چکا ہے اور امریکہ اشتراک و تعاون کے ذریعے وہ مقاصد حاصل کر سکتا ہے جو اسے جنگ سے کبھی حاصل نہیں ہوسکتے۔“