- الإعلانات -

نوجوان لڑکی نے داعش کا پردہ فاش کر دیا

کوپن ہیگن  عراق اور شام پر دہشت گردوں کے غلبے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے عوام نے بے پناہ تباہی و بربادی دیکھی ہے لیکن یزیدی اور کرد اقلیتوں پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ان اقلیتوں کے ساتھ دہشتگرد کیا کررہے ہیں، اس کا اندازہ ان دہشتگردوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والی نوجوان کرد لڑکی ہوانا پالانی کے بیان کردہ ایک واقعہ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
اخبار دی مرر کے مطابق ہوانا نے گزشتہ سال کے آغاز میں اپنی کالج کی تعلیم چھوڑی اور داعش سے لڑنے کے لئے نکل کھڑی ہوئی۔ اس نے کئی دیگر کرد خواتین کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کی اور کرد پیشمرگہ افواج میں شامل ہوکر داعش کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ اس کے زبردست نشانے کی شہرت جلد ہی عام ہو گئی اور دہشت گرد اس کا نام سن کر گھبرانے لگے۔
ہوانا کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران اس نے دہشت گردوں کی سفاکیت کے کئی مظاہرے دیکھے لیکن ایک 11 سالہ بچی کے ساتھ ہونے والا ظلم بربریت کی بدترین مثال تھا۔ ہوانا نے بتایا کہ اس کرد بچی کو دہشت گردوں نے اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔ یہ کمسن بچی جڑواں بچوں کے ساتھ حاملہ تھی، اور اس کی کمزور جان اس حمل کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہ ہو سکی اور وہ جان سے گزرگئی۔ ہوانا کا کہنا ہے کہ جبری زیادتی کے بعد حاملہ ہونے والی بچی نے دہشت گردوں کی قید سے فرار کے لئے بہت کوششیں کیں، لیکن بالآخر موت نے ہی اسے ظالموں کی قید سے آزاد کیا۔
ہوانا پالانی ایک سال تک دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے بعد اب ڈنمارک پہنچ چکی ہیں، جہاں وہ سیاسیات اور فلسفے کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔