- الإعلانات -

بھارت: کم عمر لڑکی کے گینگ ریپ اور قتل میں ملوث مبینہ دو ملزمان گرفتار

کھنؤ: ہندوستانی پولیس نے کم عمر لڑکی کے گینگ ریپ اور قتل میں ملوث مبینہ دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ذرائع  کے مطابق ہندوستان کی شمالی ریاست اُتر پردیش میں گذشتہ ہفتے ہندوؤں کی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر 3 افراد نے اس کے گاؤں کے باہر گلادبا کر قتل کردیا تھا۔

سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) سالک رام ورما کا کہنا تھا کہ لڑکی کی لاش دوسرے روز ضلع بہرائچ میں اس کے گھر سے کچھ دور ایک درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تاہم تیسرا شخص فرار ہوگیا۔

لڑکی نے مبینہ طور پر ایک شخص سے ملاقات کیلئے رات کو اپنے گھروالوں کو بغیر بتائے گئی تھی تاہم ملاقات کے وقت اس پر دو دیگر افراد نے حملہ کردیا۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘جب لڑکی نے کچھ مزاہمت کی تو اسے ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا گیا، اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کیلئے انھوں نے لڑکی کی لاش کو درخت سے لٹکایا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔

سالک رام ورما کا کہنا تھا کہ ‘میں نے 4 پولیس اہلکاروں کو غفلت کا مظاہرہ کرنے پر معطل کردیا ہے اور ساتھ ہی متعلقہ انسپکٹر کو ہدایات جاری کیں ہیں کہ تیسرے ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں لڑکی کے ساتھ ریپ اور گلا دبا کر ہلاک کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ دو سال قبل بھی ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں دو لڑکیوں کی لاشیں درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی، ان کے رشتہ داروں کا دعویٰ تھا کہ لڑکیوں کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا تھا

تاہم سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے کو خود کشی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کے ساتھ ریپ نہیں ہوا اور نہ ہی انھیں قتل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ کچھ سالوں میں ہندوستان میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم 2012 میں دہلی میں بس میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

مظاہرین نے ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے اور حکومت سے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔