- الإعلانات -

حج کو سیاست میں ملوث کرنا قطعاً ناجائز ہے:سعودی مفتی اعظم

ریاض  ایران اور سعودی عرب کے درمیان حج کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں سعودی مفتی اعظم اور علماءکمیٹی کے سربراہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے ایرانیوں کو حج سے محروم رکھنے پر تہران حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ سعودی اخبار ”الریاض“ کے مطابق مفتی اعظم نے کہا کہ اللہ رب العزت نے حرمین شریفین کی ولایت سعودی عرب کو سونپی ہے لہٰذا تمام مسلمانوں کے واسطے حج کو آسان بنانے کیلئے انتظامی طور پر جو فیصلے کیے جائیں ان کو سننا اور ماننا چاہیے۔ جو کوئی اپنا علیحدہ راستہ اپنائے گا وہ جہنم میں ٹھکانہ بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں حج سے متعلق تمام آیات اس بات کو باور کراتی ہیں کہ حج ایسی عبادت ہے جو خالص اللہ عزوجل، اس کی توحید اور دین میں اخلاص کے واسطے ہے۔ یہ اللہ رب العزت کی اطاعت کا نمونہ ہے اور یہ ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں۔
سعودی مفتی اعظم نے کہا کوئی بھی پالیسی جس کا مقصد حج کے فریضے کو راہ راست سے ہٹانا ہو وہ مجرمانہ پالیسی ہے۔ اس کے ذریعے حجاج میں جہالت کا پھیلانا، مسلمانوں پر حملہ آور ہونا یا ان میں تفرقہ پھیلانا یہ تمام امور اسلام میں مردود ہیں۔انہوں نے کہا حج کو سیاست میں ملوث کرنا قطعاً ناجائز ہے۔
ریاست پر لازم ہے کہ وہ حجاج کرام کے تحفظ اور مناسک کی سہولت کے ساتھ ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے جو اقدامات مناسب سمجھتی ہو وہ کرے۔ تمام مسلمانوں کو اس نظام کو ماننا واجب ہے اور جو کوئی اس سے ہٹ کر قصد کرے گا تو اس کی بات مردود ہے