- الإعلانات -

داعش سے غداری اور تنظیم کے خلاف سرگرمیوں پر سر قلم

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)صومالیہ میں الشباب کے شدت پسندوں نے اپنے ہی 2ارکان کےسر قلم کر دیے ۔

ذرائع  کے مطابق صومالیہ میں الشباب کے شدت پسندوں نے داعش سے غداری اور تنظیم کے خلاف سرگرمیوں کے الزام پر اپنے ہی مزید دو ارکان کا سر قلم کردیا ہے۔   اِن دونوں ارکان کو اسی وقت ہلاک کیا گیا جب جمعے کے روز صومالیہ کے وسطی جوبہ کے خطے میں ایک صومالی شخص کو پھانسی دی جارہی تھی۔ سماجی میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’بے‘ کے علاقے میں چار افراد کو ٹکٹکی پر چڑھایا گیا، جن پر صومالیہ، کینیا اور امریکی انٹیلی جنس کے اداروں کے لیے جاسوسی کا الزم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چار میں سے ایک پر ستمبر2014 میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کا الزم تھا، جس میں الشباب کا سرغنہ، احمد عبدی غودانی ہلاک ہوا، جنہیں ابو زبیر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔دونوں کینیائی لڑاکوں کو جبلب قصبے میں پھانسی دی گئی، جن کی الشباب کی ویب سائٹ پر عبداللہ عبدالحامد فراج اور جرید موکائی یمامبیہ کے طور پر شناخت ظاہر کی گئی ہے۔
’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس نے خبر دی ہے کہ فراج کا تعلق کینیا کے شہر ممباسا سے تھا۔ ا±ن پر کینیا میں اسلام کی تبلیغ کرنے والوں کی ہلاکت میں ”سہولت کار“ کا کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔ یمامبیہ کا تعلق مغربی کینیا میں واقع ادوریت شہر سے تھا۔ ان پر کینیا کے انسدادِ دہشت گردی کے پولیس دستے کے ساتھ مراسم کا الزام تھا۔

جمعے کو ’بے‘ کے علاقے میں واقع بولو فے گاﺅں میں دی گئی اجتماعی پھانسی کے موقع پر26 سالہ محمد عدن نور حسن کا سر قلم کیا گیا۔ الشباب کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ ا±ن پر اہم اطلاع فراہم کرنے کی سازش کا الزام تھا جس کے باعث الشباب کا کمانڈر، غودانی/زبیر ہلاک ہوا۔
الشباب کا کہنا ہے کہ 27 برس کے محی الدین حیراب احمد پر نیروبی میں ویسٹ گیٹ مال کے دہشت گرد حملے میں لیڈر سے غداری کا الزام تھا؛ جب کہ فائرنگ سکواڈ نے فوری طور پر دو دیگر افراد کو موت کے گھاٹ چڑھا دیا، جونہی ا±نھیں قصور وار قرار دیا گیا۔

انتہاپسندوں نے الشباب کے ایک”جج“ کی وڈیو شائع کی ہے جس میں وہ حسن کے خلاف اپنا فیصلہ سنا رہا ہے۔ جج نے کہا کہ حسن نے اطلاع فراہم کی تھی جس کے نتیجے میں امریکی افواج کو ا±س مقام کا علم ہوا جہاں شدت پسندوں کا سابق سرغنہ، زبیر چھپا ہوا تھا، جس پر ا±س کی موت واقع ہوئی۔
حسن پر الزام تھا کہ ڈرون حملوں میں سہولت کار بنا جن میں الشباب کے چوٹی کے دو کمانڈر دسمبر 2014 میں ہلاک ہوئے جن کے نام امنیت اور کمانڈر عبد الشکور تحلیل تھے جب کہ اس کے بعد فروری میں شدت پسند تنظیم کی بیرونی کارروائیوں کا سربراہ یوسف دیغ ہلاک ہوا۔