- الإعلانات -

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کی ناکامی پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

اسلام آباد برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کی ناکامی پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔برطانوی الیکٹورل کمیشن نے برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان کر دیا‘برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ کیاتو وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اہم معاملات پر عوام کو اعتماد میں لیا جاتا ہے‘عوام نے یہ فیصلہ سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں کیا۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ تین ماہ بعد وزارت عظمیٰ چھوڑ دوں گا جس کے بعد نئی قیادت یورپی یونین سے مذاکرات کرے گی۔ نیا وزیر اعظم اکتوبر میں اقتدار سنبھالے گا ۔واضح رہے کہ برطانیہ کے تاریخی ریفر نڈم میں برطانو ی عوام نے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں فیصلہ دے دیا۔برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے مطلوبہ ووٹ حاصل ہو گئے۔ جس کے بعد برطانیہ اگلے 2 سال میں یورپی یونین سے نکل جائے گا۔ برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق برطانیہ نے یورپی یونین سے نکل جانے کے حق میں 52 فیصد ووٹ دیا جبکہ یورپی یونین میں رہنے کے حق میں 48 فیصد نے ووٹ دیا۔شمال مشرقی انگلینڈ، ویلز اور مڈلینڈز میں زیادہ تر ووٹروں نے یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں جبکہ لندن، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے زیادہ تر ووٹروں نے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا ’لیو‘ نے انگلینڈ کے شمال مشرق علاقوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ سکاٹ لینڈ میں ’ریمین‘ کو سبقت حاصل ہوئی ہے۔ سب سے پہلے جس کاؤنٹی سے نتائج موصول ہوئے وہ نیوکاسل تھی، جہاں ’ریمین‘ نے صرف ایک ووٹ کے فرق سے برتری حاصل کی۔تاہم نیوکاسل سے ملحقہ کاؤنٹی سنڈرلینڈ میں ’لیو‘ نے 22 فیصد کی برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔جبرالٹر میں 96 فیصد رائے دہندگان نے ’ریمین‘ کے حق میں ووٹ ڈالا۔ طانیہ کے کئی حصوں ریفرینڈم کے دن تیز بارش ہوئی یو کے آئی پی کے رہنما نائجل فراڑ جو برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے گذشتہ 20 سالوں سے مہم چلا رہے ہیں نے اپنے حمایتیوں سے کہا ہے کہ ’یہ عام افراد اور مہذب لوگوں کے لیے جیت ہوگی۔‘اس سے قبل نائجل فراڑ نے میڈیا کو بتایا تھا: ’ایسا لگتا ہے کہ ریمین مہم جیت جائے گی۔‘جو مہم بھی جیتے، اس ریفرینڈم کے نتائج برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں سنگِ میل کی حیثیت رکھیں گے۔ اگر برطانیہ یورپی یونین کو الوداع کہنے والا پہلا ملک بن گیا تو یہ 28 رکنی تنظیم کے قیام کے بعد سے اس کے لیے سخت تر دھچکہ ہو گا۔ ریفرینڈم میں لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا ہے کیا برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ بنے رہنا چاہیے یا یورپی یونین سے الگ ہو جانا چاہیے؟‘جس نے بھی 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے اسے فاتح قرار دیا جائیگا۔دوسری طرف برطانوی وزیر اعظم پر بھی استعفیٰ کے لیے دباؤ ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے مڈ ٹرم انتخابات کا بھی مطالبہ سامنے آنے لگا۔ کیونکہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حامی تھے۔برطانوی عوام کے فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کو پر لگ گئے اور اس کی قیمت سو ڈالر اضافے سے 1360 ڈالر فی اونس تک جاپہنچی، جبکہ بین الاقومی مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے اور وہ 31 سال کی کم ترین سطح پر آگیا۔ پاؤنڈ کی قدر میں کمی برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے خدشے کی وجہ سے آئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز صبح سات بجے سے رات 10 بجے تک برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے یا چھوڑنے کے حوالے سے ریفرنڈم میں لوگوں کی بڑی تعداد نے ووٹ کاسٹ کئے ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح کو بھی تاریخی قرار دیا جا رہا ہے جس میں ماضی کے مقابلے میں رائے دہندگان کی زیادہ تعداد شریک ہوئی۔برطانیہ میں ہونے والے تاریخی ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حامیوں کو فتح کو حاصل ہوئی ہے۔برطانوی نشریاتی اداروں کے مطابق علیحدگی کے حق میں 52 فیصد ووٹ آئے ہیں۔اب تک کے سامنے آنے والی نتائج میں برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں دیے گئے ووٹ کی شرح 48 فیصد قریب رہی۔جمعرات کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح کو بھی تاریخی قرار دیا جا رہا ہے برطانیہ کے انتخابی کمیشن نے ایک بیان میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 72?2 فیصد رہی۔علیحدگی کی حامی مہم کے رہنما نائیجل فراج پہلے ہی یہ کہہ کر فتح کا اعلان کر چکے ہیں کہ 23 جون برطانوی تاریخ میں “یوم آزادی” ہوگا اور انھوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ادھر پاونڈ کی قدر میں پانچ فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ ایشیائی بازار حصص میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوا تو اپنے مقررہ وقت پر رات دس بجے مکمل ہو گیا۔جنوبی انگلینڈ میں شدید بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث بہت سے لوگوں کو پولنگ اسٹیشن پہنچنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ لندن کے دو پولنگ اسٹیشنز کو سیلاب کے باعث کسی اور مقام پر منتقل کرنا پڑا۔ اگر برطانیہ یورپی یونین کو الوداع کہنے والا پہلا ملک بن گیا تو یہ 28 رکنی تنظیم کے قیام کے بعد سے اس کے لیے سخت تر دھچکہ ہو گا۔اس سے پہلے برطانیہ میں صرف دو ملک گیر ریفرنڈم ہوئے ہیں، اور یہ یورپین یونین میں رہنے کے حق میں اور مخالفت کرنے والی مہموں کے درمیان چار ماہ کی تند و تیز بحث کے بعد منعقد کیا گیا