- الإعلانات -

بغداد میں دو بم دھماکے، کم از کم 79 افراد ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکام کے مطابق خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم کی جانب سے کیے گئے دو بم دھماکوں میں کم از کم 79 افراد ہلاک اور 131 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ پہلا دھماکہ مرکزی ڈسٹرکٹ کرادہ میں ایک ریستوارن اور مصروف بازار میں اس وقت ہوا جب بہت سارے افراد یہاں رمضان کی خریداری کر رہے تھے۔دوسرا دھماکہ کچھ دیر بعد دارالحکومت کے شمال میں واقع شیعہ اکثریتی علاقے میں جس میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔حکام کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ فلوجہ کو بغداد پر حملوں کے لیے ’لانچنگ پیڈ‘ کے طور پر استعمال کرتی تھی۔سنیچر کو کرادہ میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔دولت اسلامیہ نے عراق کے شمال اور مغربی حصوں اور دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر رکھا ہے۔تاہم اس گروہ کو عراق اور ہمسایہ ملک شام میں سخت دباؤ کا سامنا ہے جہاں حکومتی فوجوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ باغی انھیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ذرائع  کے مطابق مرنے والوں میں بہت سے بچے شامل ہیں۔دھماکے کی وجہ سے بازار کی اہم سڑک پر آگ پھیل گئی اور اتوار کی صبح بھی وہاں آگ لگی ہوئی تھی۔ پاس کی کئی عمارتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔وزیر اعظم حیدر العبادی جب صبح کو وہاں پہنچے تو مشتعل ہجوم نے ان کا راستہ روکا۔