- الإعلانات -

امریکا کی توجہ نقشوں پر موجود سرحدی لائنز پر نہیں، جان کربی

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ کشمیر میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد پر امریکا کو تشویش ہے۔ امریکا تمام فریقین پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ تنازع کا پرامن حل تلاش کریں۔جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی سمجھتا کہ پاکستان اور افغانستان کا سرحدی علاقہ بہت سے دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنا ہوا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک اس بات کو سمجھتے ہیں کیونکہ اس خطرے کے خاتمے کے لیے ماضی میں دونوں ممالک کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم یہ کوششیں پوری طرح کامیاب نہں ہوسکی ہیں۔جان کربی نے کہا کہ امریکا کی توجہ پاکستان اور افغانستان کے نقشوں پر موجود سرحدی لائنوں پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک وہاں موجود دہشت گردوں کے خلاف کیا اقدامات کررہے ہیں۔امریکا سمجھتا ہے کہ دونوں ممالک کو اس سلسلے میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے مشترکہ مفاد میں ہے اور ہماری توجہ بھی اسی پر ہے۔ہم نےبھی کشمیر میں مظاہرین اور بھارتی فورسز میں جھڑپوں کی خبریں دیکھی ہیں، یقینا ہمیں تشددد پر تشویش ہے۔ ہم مسئلے کے پرامن حل کیلئےتمام فریقوں کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔جان کربی نے ایدھی کی خدمات کو بھی بہت سراہا اور کہا کہ ایدھی انسانیت کی خدمت کرنے والے انسان تھے۔ایدھی کی وفات پر ان کے اہلخانہ اور پاکستانی عوام سے تعزیت کرتے ہیں۔جان کربی نے مزید کہا کہ انہیں عبدالستار ایدھی کی وفات کا گہرا دکھ ہےاور امریکی حکومت عبدالستار ایدھی کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے