- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی دبانے کیلئے ظلم و ستم جاری

سری نگر : اب تک قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں سوا لاکھ کشمیری شہید ہوچکے ہیں ، تیرہ ہزار سے زائد کشمیری لاپتہ ہیں. بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے اب تک سوا لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے ۔ گزشتہ ہفتے حزب المجاہدین کے کمانڈر   برہان مظفر وانی   کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو ایک نئی روح ملی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں 1989ء سے شروع کی گئی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لئے بھارتی سورمائوں نے اب تک 1 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا ۔ بھارتی مسلح افواج نے کشمیریوں کی تحریک کو دبانے کے لیے اب تک 13 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو غائب کیا ،بھارت کا سینہ تان کر مقابلہ کرنے والے 6 لاکھ لوگ اپنے جسم کو چھلنی کرکے شمع حریت کو جلائے رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے کالے قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے 1 لاکھ 32 ہزار سے زائد آزادی کے متوالوں کو مختلف عقوبت خانوں میں بند کر رکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے ہیرو اور حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی میں ایک مرتبہ پھر تیزی آگئی ہے ۔ برہان وانی کی شہادت کے دوران پرامن اور نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلاکر اب تک 40 سے زائد لوگوں کو شہید کیا گیا۔ دوسری جانب بھارت نے تحریک آزاد ی کو دبانے کے لئے میرواعظ عمرفاروق، سید علی گیلانی، یاسین ملک ، ظفراکبر بٹ سمیت سیکڑوں حریت قائدین کو گھروں میں نظر کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے مسلہ کشمیر پر واضح موقف سے جہاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حوصلہ ملا وہاں اس سے پوری دنیا کو پیغام بھی ملا کہ بھارت کشمیری عوام کی آواز کو ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دبانا چاہتا ہے