- الإعلانات -

فراڈ کیس میں مشی خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

روالپنڈی: فراڈ کیس میں عدالت نے مشی خان کو گرفتار نہ کرنے کے احکامات دیتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

راولپنڈی کی مقامی عدالت نے چیک ڈس آنرکیس میں اداکارہ مشی خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

مقامی عدالت نے خیانت مجرمانہ کیس مشی خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج رانا زاہد نے مشی خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

مشی خان کے وکیل رانا نذیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ مدعیہ ڈاکٹر افشاں نے کچھ چیک مشی خان سے منسوب کیے جبکہ چیک ایڈور ٹائزنگ کمپنی کے منیجر کے نام پر ہیں۔

مشی خان نے کہا کہ انہوں نے کسی سے رقم وصول کی نہ ہی فراڈ کیا، ایڈور ٹائزنگ کمپنی سے اس حوالے سے پوچھا جائے۔

عدالت نے درخواستِ ضمانت پر بحث مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں عدالت نے مشی خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اداکارہ کو 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے مشی خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ بادی النظر میں الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ مقدمے کی مدعیہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی۔

خیال رہے کہ مشی خان پر 4 جولائی 2015 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان کے منیجر کا نام بھی شامل ہے.

ڈاکٹر افشاں نے نیو ٹاؤن تھانے میں اداکارہ مشی خان پر جعلی چیک دینے کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔

اداکارہ کے وکلاء کے مطابق 2 چیکس کی ادائیگی منیجر کی جانب سے کی گئی جن پر دستخط بھی منیجر کے ہی ہیں.

مبینہ طور پر 2 چیک 4 لاکھ 50 ہزار روپے کے تھے جو کہ ڈاکٹر افشاں کے اسپتال کی تشہری مہم نہ چلانے پر رقم کی واپسی کیلئے دیئے گئے.