- الإعلانات -

وزیر اعلیٰ رینجرز اور وزیر داخلہ میں کشیدگی کم کرانے کیلئے میدان میں آ گئے

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، رینجرز اور صوبائی وزیر داخلہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لئے میدان میں آ گئے۔ ڈی جی رینجرز نے واضح کر دیا کہ لاڑکانہ واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتاری دینا ہو گی، وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے خلاف پریس کانفرنس کرنے والے بابو سرور سیال کو پولیس نے بیان ریکارڈ کرانے کے لئے طلب کر لیا۔ سندھ کے وزیر داخلہ کے ستارے گردش میں آ گئے۔ ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے رینجرز کے تابڑ توڑ چھاپے جاری ہیں۔ جلتی پر تیل کا کام لاڑکانہ میں بابو سرور سیال کی پریس کانفرنس نے کر دیا۔ معاملہ سدھارنے کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ کو میدان میں آنا پڑا۔

سید قائم علی شاہ نے لاڑکانہ میں اجلاس طلب کیا جس میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے بھی شرکت کی۔ ڈی جی رینجرز نے واضح کیا کہ واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائیگا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے سندھ حکومت ہر ممکن تعاون کریگی۔

دوسری جانب، پولیس نے مسلم لیگ ق کے رہنماء بابو سرور سیال کو بیان کے لئے طلب کر لیا ہے۔ بابو سرور سیال اویس شاہ کے اغواء سے متعلق بیان قلم بند کرائیں گے۔ بابو سرور سیال نے گزشتہ روز سہیل انور سیال پر اویس شاہ کے اغواء کا الزام عائد کیا تھا۔