- الإعلانات -

امریکہ نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات کے لئے متحرک

واشنگٹن: امریکہ وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی کی نیویارک میں ملاقات کے لئے متحرک ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی کے خاتمے اور مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کے لیے امریکہ بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے اس کی خواہش ہے کہ رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات ہو جائے جس میں کشیدگی میں کمی پر بات چیت ہو۔ امریکہ نے اس مقصد کے لئے سفارتی چینلز کو متحرک کیا ہے۔ دونوں ملکوں کو یہ پیغام دیا ہے وہ رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات کے لئے اقدامات کریں۔ پاکستان کو یہ پیغام امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے حالیہ دورے پر دیا کہ جبکہ بھارت میں امریکی سفیر رچرڈ ورما نے بھارتی قیادت کو سفارتی چینل کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا۔ پاکستان بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے امریکی سفارت کار دونوں ممالک کے اعلی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر کشیدگی کی کیفیت ختم ہو دونوں ممالک دوبارہ سیز فائر کی طرف جائیں اور مسائل بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کئے جائیں۔ تاہم امریکی کوششوں کے باوجود نیویارک میں پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے حوالے سے ابھی تک کچھ واضح نہیں۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان زیادہ توجہ افغانستان کے ساتھ ملنے والی سرحد اور قبائلی علاقوں پر مرکوز رکھے تاہم بھارت کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے امریکی حکام کو اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان کے لیے ایسا کرنا مشکل ہے اس لیے کوشش ہے کہ جہاں طالبان اور افغان حکومت دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں وہاں پاکستان اور بھارت بھی تعلقات بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔ وزیراعظم نواز شریف کے اکتوبر میں ہونے والے دورہ امریکہ میں بھی امریکی صدر بارک اوباما کے ساتھ ان کی ملاقات میں دیگر اہم باہمی اور عالمی معاملات کے ساتھ ساتھ پاکستان بھارت کشیدگی پر بات ہوگی۔