- الإعلانات -

کوئی بھی پاکستان کے اندر حملے کی جرات نہیں کرسکتا.سرتاج عزیز

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز نے انڈر ورلڈ کے مبینہ ڈان داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کے ہندوستانی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے.

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پاکستان کے اندر حملے کی جرات نہیں کرسکتا اور اگر کسی نے ایسا سوچا بھی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا.

گذشتہ دنوں پاک-ہند سیکیورٹی مشیروں کی ملاقات کی عین وقت پر منسوخی کے حوالے سے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ "ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے پاکستان مخالف ایجنڈے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا اور اب وہ اپنی شرائط کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں،لیکن ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور یہ بات نئی دہلی کو پہلے ہی بتا دی گئی ہے.”

یاد رہے کہ سرتاج عزیز اور ان کے ہندوستانی ہم منصب اجیت دوال کے درمیان گذشتہ ماہ 24-23 اگست کو ہونے والی ملاقات ہندوستان کی جانب سے عین وقت پر اِس وجہ سے منسوخ کردی گئی تھی کہ پاکستان نے حریت رہنماؤں سے مشاورت کیوں کی.

سیکیورٹی مشیروں کی سطح کی اس ملاقات میں ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان اور بلوچستان اور سندھ میں ہندوستانی مداخلت کا مسئلہ اٹھایا جانا تھا.

قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ پاکستان رینجرز اور انڈیا کی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے افسران اوفا اعلامیے کے مطابق ملاقات کررہے ہیں، جس کا مقصد لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی کم کرنا ہے.

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ’کشمیر پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل کیے بغیر ہندوستان سے بات چیت ممکن نہیں ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے سرتاج عزیز نے بتایا کہ سیکیورٹی کے مسائل پرافغان صدر نے پاکستان کامؤقف تحمل سے سنا ہے، جس سے پاک افغان قیادت کے درمیان سیکیورٹی امور پر غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان صدر سے ملاقات میں پاکستانی سفارت خانے کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا جس پر افغان صدر نے پاکستانی سفارت خانے کی سیکیورٹی بڑھادی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جیسے ہی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی سیکیورٹی معاملات بھی حل ہوجائیں گے۔