- الإعلانات -

کشمیر کے حق خود ارادیت کو دہشتگردی سمجھنا بھارت کا احمقانہ خیال ہے:سرتاج عزیز

پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کے لئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کشمیر کے حق خود ارادیت کو دہشتگردی سمجھنا بھارت کا احمقانہ خیال ہے۔ سید علی گیلانی کے چار نکاتی فورمولے کی حمایت کرتے ہیں.دفتر خارجہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہسپتالوں اور ایمبولینسز پر حملے اور شہریوں کو چھروں سے زخمی کرنے کے واقعات چونکا  دینے والے ہیں۔ عالمی برادری کشمیر میں کرفیو کے نفاذ ،میڈیا پر پابندی اور موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کئے جانے کا نوٹس لے۔ مقبول حریت رہنما برہان وانی کی شہادت سے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پیدا ہو گئی ہے۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف سراپا احتجاج نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی جانب سے اسلحے کے استعمال پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔ انہوں نے حریت رہنما سید علی گیلانی کے چار نکاتی فارمولے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق چاہتا ہے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ ہم کشمیریوں کی سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ پاکستان مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ۔ اسلامی ممالک کی تنظیم ۔ یورپی یونین ۔ افریقی یونین اور کشمیر رابطہ گروپ سمیت تمام فورمز پر کشمیر میں بھارتی مظالم کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی سیاسی قیادت متحد اور پہلے سے زیادہ پرعزم ہے جبکہ20 جولائی کو یوم سیاہ منا کر پوری قوم نے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان افغانستان مفاہمتی عمل دوبارہ شروع کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ پرامن افغانستان کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی