- الإعلانات -

ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک حکومت کی حمایت میں سامنے آگئے

نیویارک: ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک حکومت کی حمایت میں سامنے آگئے،اعلان نے سب کو حیران کردیا،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر وہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو ترکی اور دیگر ممالک کی حکومتوں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن سے روکنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالوں گا، امریکی صدارتی انتخاب کے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے اور روس نے نیٹو اتحادیوں پر حملہ کیا تو وہ مدد سے پہلے سوچیں گے۔امریکی اخبار کو انٹرویومیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ حملے کی صورت میں مدد سے قبل اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا جس ملک پر حملہ ہوا ہے اس نے امریکا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں یا نہیں۔صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ ملک امریکا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نبھا رہا ہوگا تو میں اس کی مدد کا فیصلہ کروں گا ورنہ امریکا کا کردار صرف امدادی سرگرمیوں میں معاونت تک محدود ہوگا۔انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ میں نیٹو کے رکن ممالک پر زور دوں گا کہ وہ اس دفاعی اتحاد کے اخراجات کا اتنا ہی بوجھ برداشت کریں جتنا امریکا دہائیوں سے کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں امریکا اور نیٹو ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو جاری رکھوں گا لیکن صرف اس صورت میں جب وہ ممالک امریکا کی فراغ دلی کا ناجائز فائدہ اٹھانا بند کردیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر وہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو ترکی اور دیگر ممالک کی حکومتوں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن سے روکنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالوں گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو دیگر ممالک کے رویوں کو درست کرنے کے بجائے اپنے مسائل سے چھٹکارا پانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں کسی بھی ملک کو لیکچر دینے کا حق نہیں، ہمارے ملک میں کیا ہورہا ہے اسے دیکھنا چاہیے، ہم کیسے کسی اور کو لیکچر دے سکتے ہیں جبکہ خود ہمارے ملک میں لوگ پولیس اہلکاروں کو قتل کررہے