- الإعلانات -

200 ہیکڑ پر پھیلا دنیا کا سب سے بڑا سولر پارک

صحرائے چولستان میں بانی پاکستان کے نام سے منسوب قائداعظم سولر پاور پارک (کیو اے ایس پی) کے 200 ہیکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے لگ بھگ چار لاکھ سولر پینل سورج کی روشنی میں جگمگا اٹھتے ہیں۔

چینی کمپنی سن جیانگ سن اوسس نے محض تین ماہ کے اندر سو میگا واٹ پی وی سولر فارم تعمیر کیا جس نے اگست سے قومی گرڈ کو بجلی فروخت کرنا شروع کردی۔یہ 46 ارب ڈالرز کی پاکستان۔ چین اقتصادی راہداری کا پہلا توانائی منصوبہ ہے اور یہ یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ سو میگا واٹ کے پلانٹ کو دنیا کے سب سے بڑے سولر فارم کی شکل دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
2017 میں مکمل ہونے کے بعد یہ ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے لگا جو کہ تین لاکھ 20 ہزار گھروں کو روشن کرنے کے لیے کافی ثابت ہوگا۔اگلے مرحلے کا تعمیراتی کام پہلے سے ہی جاری ہے جسے ایک اور چینی کمپنی زونرجی نے سنبھالا ہوا ہے۔اٹھارہ ماہ قبل اس مقام پر لق و دق صحرا کے سوا کچھ نہیں تھا مگر اب صحرا کے وسط میں ایک چھوٹا شہر سر اٹھا رہا ہے جہاں دو ہزار سے زائد ورکرز بھاری مشینری، پاور ٹرانسمیشن لائنز، عمارات کے بلاکس، پانی کے پائپس اور دیگر کے ساتھ موجود ہیں۔زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی، روزگار کے مواقعوں میں اضافہ سولر پارک کے آپریٹنگ منیجر محمد حسن عسکری بتاتے ہیں کہ صحرائے چولستان شمسی توانائی کے لیے مثالی مقام ہے جہاں روزانہ 13 گھنٹے تک سورج پوری آب و تاب سے جگمگاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ شمسی توانائی کا ایک بڑا پارک تھرمل یا ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے مکمل ہوتا ہے۔کیو اے ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نجم احمد شاہ کا کہنا تھا کہ شمسی پارک سے پاکستان میں کاربنکے اخراج کی شرح بھی کم ہوگی یعنی لگ بھگ 90 ہزار ٹن زہریلی گیسوں کا اخراج کم ہوگا۔پاکستان ہائیڈروکابن پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتا ہے خاص طور پر درآمدی کوئلے، خام تیل اور گیس پر، اس وقت 87 فیصد توانائی کی پیداوار ان ذرائع سے ہوتی ہے جسے 2025 تک 60 فیصد تک لانے کا ہدف ہے۔اس پارک سے پندرہ سے 33 ہزار تک مقامی افراد کو ملازمتیں ملیں گی جبکہ خطے میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔تاہم کچھ ماہرین پراجیکٹ کے حوالے سے فکر مند ہیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل علی حسن حبیب نے منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے مگر بڑے پیمانے پر وسعت دینے پر کچھ زیادہ مطمئن نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ دنیا میں شمسی توانائی فراہم کرنے والی تمام تر تنصیبات سے حجم کے لحاظ سے دوگنا بڑا ہوگا ” زیادہ بہتر ہوگا کہ باقی ماندہ 900 میگا واٹ بجلی بڑے پارکنگ لاٹس کی چھتوں پر پینل لگا کر حاصل کی جائے ناکہ دور دراز مقامات پر انہیں نصب کیا جائے”۔پاکستان متعدد برسوں سے توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے خاص طور پر دیہی علاقوں میں اکثر بیس بیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ بجلی نہ ہونے کے باعث صںعتی شعبے میں مقامی یا غیر ملکی سرمایہ کاری بہت کم ہوتی ہے۔ملک میں بجلی کے پیداواری نظام کی گنجائش 22797 میگا واٹ ہے مگر مجموعی پیداوار صرف چودہ ہزار میگاواٹ ہے جبکہ حالیہ برسوں میں طلب انیس ہزار میگاواٹ تک بڑھ چکی ہے۔شمسی توانائی سے یاک ہزار میگاواٹ بجلی ملنے سے بحران میں کمی لانے میں مدد ملے گی مگر محمد حسن عسکری کا کہنا ہے کہ حکومت کو دیگر ہائیڈروپاور اور کوئلے کے منصوبوں پر بھی سرمایہ کاری کرنی چاہئے جس سے بجلی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نواز شریف نے 2018 کے آخر تک لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ رواں برس مئی میں سو میگاواٹ کے سولر پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا تھا۔سب اس سے خوش نہیںدوسری جانب ناقدین کے اس منصوبے پر تحفظات ہیں اور حکومت کے ساتھ کام کرنے والے ایک انرجی ماہر کے مطابق ہائیڈرو پاور سے سولر پینلز کے مقابلے میں آدھے سے کم نرخوں میں بجلی فراہم کی جاسکتی ہے جبکہ ونڈ پاور بھی سستی ہوتی تو ساری توجہ سولر پاور پر کیوں مرکوز ہے؟اسی طرح سولر بجلی دیگر ذرائع سے مہنگی ہوتی ہے، کیو اے ایس پی کا دعویٰ ہے کہ وہ قومی گرڈ کو 0.14 ڈالر فی یونٹ پر بجلی فروخت کی جارہی ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی سے ہونے والے معاہدے کے تحت بجلی 0.24 ڈالر فی یونٹ پر خریدی جارہی ہے جو کہ سات سال جب قرضے ادا ہوجائیں گے تو کم ہوکر 0.17 ڈالر فی یونٹ ہوجائے گی۔اس کے مقابلے میں ہائیڈرو پاور سے ملنے والی بجلی 0.07 ڈالر فی یونٹ، خام تیل سے 0.11 ڈالر فی یونٹ اور درآمدی ایل این جی سے 0.12 ڈالر فی یونٹ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار تو صرف پیداوار کے جس میں پچیس فیصد کا مزید اضافہ لائن لاسز اور چوری کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سولر پارک سے دن میں تو بجلی پیدا ہوتی ہے رات کو نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ونڈ پاور ایسا ذرائعہ ہے جس سے ایک لاکھ میگا واٹ سے زیادہ بجلی پاکستان پیدا کرسکتا ہے اور اس کی پروڈکشن رات میں بھی برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ سولر پارک کے علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کے ذمہ دار لیفٹننٹ کرنل ریٹائرڈ ایم حسن ملک کہتے ہین کہ یہ منصوبہ حکمران مسلم لیگ نواز کے لیے بڑا سیاسی خطرہ بھی بن سکتا ہے اور اس کی کامیابی وزیراعظم نواز شریف کے لیے ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے حکومت یہ پیغام بھی باہری دنیا کو بھیجنا چاہتی ہے کہ اس میں بڑے منصوبوں پر عملدرآمد کرنے کی صلاحیت موجود ہے جن کے لیے فول پروف سیکیورٹی سرمایہ کاروں کو فراہم کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پارک نہ صرف قومی اثاثہ ہے بلکہ یہاں غیر ملکی افراد بھی کام کررہے ہیں لہذا اس کی حساسیت دوگنا بڑھ گئی ہے۔ اس منصوبے کی حفاظت کے لیے 800 سے 900 گارڈ تعینات ہیں جبکہ یہاں چار سو چینی ورکرز اور دو ہزار سے زائد مزدور کام کررہے ہیں۔