- الإعلانات -

بھارت نے ممبئی ٹرین حملہ کیس میں مزید 12 مسلمانوں کو مجرم قرار دے دیا۔

ممبئی: ہندوستان کے شہر ممبئی میں 2006 کے ٹرین بم دھماکوں میں ملوث 12 افراد کو مجرم قرار دے دیا گیا۔جولائی 2006 ممبئی کی ٹرینوں میں 7 بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 189 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جن افراد جو سزاء سنائی گئی ان میں کمال انصاری، آصف خان، محمد فیصل عطاء الرحمن شیخ، اہتشام قطب الدین صدیقی، نوید حسین خان، تنویر انصاری، محمد ماجد شفیع ، شیخ محمد علی عالم شیخ، محمد انصاری، مزمل شیخ، سہیل شیخ اور ضمیر شامل ہیں۔مقدمے کی سماعت کرنے والے جج یاتین ڈی شندے کی عدالت نے ان افراد پر قتل اور مجرمانہ سازش کرنے کا مجرم قرار دیا۔جسٹس یاتین ڈی شندے کا کہنا تھا کہ وہ پیر کو استغاثہ اور وکیل صفائی کے دلائل سننے کے بعد سزاؤں کا اعلان کریں گے، ان تمام افراد پر موت کی سزائی دی جائے گی۔سرکاری وکیل راجہ ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ ان مجرموں کے لیے سخت سزا کے خواہشمند ہیں، جج چاہے جو بھی سزاء سنائے مگر اس سے عوام کواطمینان ہونا چاہیے کہ انصاف ہوا ہے۔خیال رہے کہ ممبئی میں ہونے والے دھماکوں کے الزام میں 30 افراد کو ملزم قرار دیا تھا ان میں سے 13 پاکستانی بھی شامل تھے، جبکہ 4 ہندوستانیوں سمیت پاکستان کے 13 افراد تاحال گرفتار نہیں ہوئے۔ایک ملزم عبدالوحید شیخ تمام الزامات سے بری ہو گئے تھے، عبد الوحید شیخ کے مسلمانوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے وکیل شاہد عظمی تھے جن کو 2010 میں پراسرار طور پر نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ممبئی میں 11 مئی 2006 کی شام 15 منٹ کے دوران 7 بم دھماکے ہوئے تھے، اس کیس کی سماعت 9 سال تک عدالت میں ہوئی جس میں 250 گواہوں نے بیانات دیئے۔یہ بم بیگ کے اندر رکھے گئے تھے جبکہ ان کو اخبارات اور چھتریوں میں چھپایا گیا تھا۔ممبئی پولیس نے 2006 میں ہونے والے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ نامی تنظیم پر عائد کی تھی جبکہ دھماکوں کی ذمہ داروں غیر معروف تنظیم لشکر قہار نے قبول کی تھی۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ تمام بم ممبئی میں ہی بنائے گئے تھے جبکہ ان کو جان بوجھ کر ٹرین کے فرسٹ کلاس کے ڈبوں میں رکھا گیا تھا تاکہ شہر کی امیر گجراتی برادری کے افراد کو نشانہ بنایا جا سکے۔دھماکوں کو 2002 میں گجرات میں ہونے والے فسادات کا رد عمل قرار دیا گیا تھا، گجرات میں ہونے والے فسادات میں 2000 افراد ہلاک ہوئے تھے جن کی اکثریت مسلمان تھی۔

2006 میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کر دیئے تھے۔