- الإعلانات -

ڈاکٹر عاصم کے بعد زرداری کا ایک اور ساتھی شکنجے میں.

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے سندھ اسمبلی کے رکن سید علی نواز شاہ کو نیب عدالت کی جانب سے سزا دینے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی انتقام کے لئے عدالتی طریقہ کار کو استعمال کرنے کی بدترین مثال ہے۔ عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے سندھ اسمبلی کے رکن علی نواز شاہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ جس کیس میں انہیں پانچ سال کی سزا سنائی گئی ہے وہ 15سال پہلے 2001 میں رجسٹر ہوا تھا۔ ایک بیان میں سابق صدر نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ سید علی نواز شاہ کو ایک ایسے کیس میں سزا دی گئی ہے جس میں ان کی جائیداد کے عوض ریاست نے انہیں رقم دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح سے عدالتی نظام کو ستعمال کرکے سیاسی مخالفین کو سزائیں دلوائی گئیں تو پھر بات بہت دور تک چلی جائےگی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں سید علی نواز شاہ کا نہایت احترام کیا جاتا ہے ان کو اس طرح سے سزا دینے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وفاقی اداروں کو کس طرح سیاسی انتقام کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے جس طرح اس کیس کا فیصلہ کرنے میں تاخیر سے کام لیا گیا اس سے اس کیس کی شفافیت اور منصفانہ ہونے پر سوالات اٹھتے ہیں جس کی آئین کے آرٹیکل 10-A جو اٹھارہویں ترمیم میں شامل کیا گیا تھا اس کی روح سے منصفانہ مقدمات کی گارنٹی دی گئی ہے۔ سابق صدر نے متنبہ کیا کہ اس سیاسی انتقام کے مضمرات خراب ہوں گے اور وفاقی ایجنسیوں کو نہیں چاہیے کہ وہ خود کو ایک دلدل میں پھنسائیں اور اس سے نکلنا ان کے لئے مشکل ہو جائے۔