- الإعلانات -

کشمیر: 2 ہندوستانی سیکیورٹی گارڈ ہلاک

سری نگر: ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ جھڑپ کے دوران 2 ہندوستانی سیکیورٹی فورسز اہلکار اور ایک حریت پسند ہلاک ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعہ پاکستانی سرحد کے قریب پیش آیا، تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ مبینہ حریت پسند کشمیر میں موجود تھا یا اس نے سرحد عبور کی تھی۔

ہندوستانی فوج کے ترجمان این این جوشی نے بتایا کہ ایک جھڑپ کے دوران 2 بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) اہلکار اور ایک ‘مبینہ حریت پسند’ ہلاک ہوگیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 8 جولائی کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں ایک نوجوان کشمیری حریت رہنما برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد وادئ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہندوستانی فورسز نے درجنوں نہتے کشمیریوں کو ہلاک کردیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے بعد ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں گذشتہ 30 روز میں ہلاک ہونے والے نہتے کشمیریوں کی تعداد 60 سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ اس میں 4000 کشمیری زخمی بھی ہوئے۔

کشمیر کے مقامی میڈیا کے مطابق ہندوستانی فورسز نے مظاہرین کے خلاف چھروں کا استعمال کیا جس کے باعث زخمیوں کو شدید نوعیت کے زخم آئے اور سیکٹروں لوگ معزور ہوگئے۔

یاد رہے کہ کشمیر میں 31 روز گرز جانے کے باوجود کرفیو نافذ ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔

خیال رہے کہ ہندوستان کئی دہائیوں سے کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض ہے اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو دبانے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں فوج کو یہاں تعینات کررکھا ہے۔

کشمیری بھی کئی دہائیوں سے ہندوستان سے آزادی کیلئے سیاسی جدوجہد میں مصروف ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قرار دادوں کے مطابق انھیں اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کی حق دیا جائے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 1989 سے کشمیر میں شروع ہونے والی مسلح حریت کی تحریک کو دبانے کیلئے ہندوستانی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا اور لاکھوں نہتے کشمیریوں کو مختلف مواقعوں پر ہلاک کیا۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ 1989 سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں شروع ہونے والی آزادی کی تحریک کے بعد سے اب تک ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں 70000 سے زائد نہتے کشمیری ہلاک ہوچکے ہیں۔