- الإعلانات -

ایمنسٹی انٹرنیشنل: شام کی جیلوں میں قید 18 ہزار افراد تشدد کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

لندن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2015 کے دوران شام کی جیلوں میں قید 18 ہزار افراد تشدد کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’اٹ بریکس دا ہیومن‘ کے نام سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت کو 4 برس ہوچکے ہیں اور اس دوران شام کی مختلف جیلوں میں یومیہ اوسطاً 10 افراد تشدد سے ہلاک ہورہےہیں ، اس طرح 2011 سے 2015 کے دوران شام کی جیلوں میں تقریباً 17 ہزار 723 افراد صرف تشدد کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں 65 افراد کے انٹرویو بھی شامل کئے گئے ہیں جس میں متاثرہ قیدیوں کا کہنا تھا کہ اکثر قیدیوں کو جیلوں میں آنے کے بعد محافظوں کی جانب سے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے ’استقبالیہ پارٹی‘ کہا جاتا ہے اس کے بعد ’تلاشی کا عمل‘ شروع ہوجاتا ہے جس کے دوران خاص طور پر خواتین کو مرد محافظوں کے ہاتھوں زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور جہاں تک ہوسکے جانوروں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اور بالخصوص امریکہ اور روس جو شام کے تنازعے پر امن مذاکرات میں شامل ہیں شام میں عوام پر تشدد کا استعمال ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔