- الإعلانات -

ایم کیو ایم کے یوم سوگ پر معمولات زندگی معمول کے مطابق رہے.

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کارکنوں کے مبینہ ’ماورائے عدالت قتل‘ کے خلاف یوم سوگ منایا گیا البتہ شہر میں معمولات زندگی بحال رہے جبکہ زبردستی دکانیں بند کرنے والے افراد کو رینجرز نے گرفتار کر لیا۔

ایم کیو ایم نے یوم سوگ میں بازار اور دکانیں بند رکھنے کی اپیل کی تھی لیکن شہر کے اہم تجارتی مراکز صدر، صرافہ بازار اور الیکٹرونکس مارکیٹ میں معمول کے مطابق کام جاری رہا، سرکاری و نجی دفاتر اور کاروباری مراکز کھلے رہے جبکہ ٹرانسپورٹ بھی معمول کے مطابق چلتی رہی البتہ بعض علاقے جزوی طور پر بند رہے

کراچی کے دیگر علاقوں ملیر، شاہ فیصل کالونی، عائشہ منزل، آئی آئی چندریگرروڈ، ڈیفنس، کلفٹن میں بھی کاروبارہ زندگی معمول کے مطابق چلتا رہا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما سوشل میڈیا پر صبح 8 بجے ہی کامیاب یوم سوگ کا اعلان کر رہے تھے
ایم کیو ایم کے یوم سوگ کے اعلان پر کراچی کے کچھ حصوں میں کاروبار جزوی طور پر بند رہا جہاں دکانیں اور کاروبار بند اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی۔

ابوالحسن الصفہانی روڈ، کریم آباد، عزیزآباد، لیاقت آباد،کورنگی، لانڈھی، اورنگی ٹاؤن، گلستان جوہر کے بعض علاقے جزوی طور پر بند رہے.

امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے رینجرز کی جانب سے گشت بھی کیا گیا.

سندھ حکومت نے زبردستی دکانیں بند کروانے والوں کے خلاف انتباہ جاری کیا تھا۔

صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیس کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے شرپسندوں کو دیکھتے ہی گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا.

سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رینجرز کے جاری بیان میں کہا گیا کہ رینجرز نے جوبلی، لیاقت آباد نمبر 4، کریم آباد اور اورنگی ٹاؤن سیکٹر 5 میں جبری طور پر مارکیٹیں بند کروانے والے 8 شرپسند گرفتار کیے،ان سر پسند افراد کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرپسند شہریوں اور تاجروں کو معمولات زندگی بند رکھنے کے لیے دھمکا رہے تھے۔