- الإعلانات -

مشرف کیس،آخر خرم دستگیر بے بس ہو گئے!

اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)آج بھی کارکنان ملنے آئے جو سیاہ دنوں کے ساتھی ہیں،ایک وقت تھا کہ پولیس میرے گھر کے باتھ روم تک آئی،مشکل دنوں کے کارکنان نے بہت قربانیاں دیں،وزیراعظم نے رائے لی تھی کہ مشرف کے ساتھیوں کو لیا جائے کہ نہیں،کارکنان نے کہا اگر پارٹی نے حکومت بنانی ہے تو ہم راضی ہیں،راجہ ظفر الحق نے ٹھیک کہا کہ مشرف کے ساتھیوں کے حوالے سے پارٹی میں تشویش ہیں،پارٹی کو وسعت دینے کےلئے مشرف کی ٹیم کو لیا گیا،مشرف پر آرٹیکل6کا مقدمہ ہے،جمہوریت مشرف کے مقدمے کا وزن سہنے کی ہمت نہیں رکھتی،مشرف کے غداری کے مقدمے میں عارضی تعطل ہے،ہوسکتا ہے ہمارے بعد مشرف پر غداری کا مقدمہ چلے،چائے کے کھوکھے پر بیٹھے شخص کا بھی جمہوری حق ہے،یہ بات قائم کرنی ہے کہ حکومت عوام کے راستے بنے،ابھی حکومت قائم ہونے کے دیگر راستے بند کرنے ہیں،دھرنے سے پتا چلا کہ کچھ جماعتوں کے عناصر جمہوریت نہیں چاہتے،دھرنا جمہوریت کےلئے تباہ کن تھا،دھرنے نے جمہوری اداروں کی بالادستی کو کمزور کیا،دھرنے نے سب عمارتوں کا تقدس پامال کیا،جس طرز سے اداروں کو لعن طعن کیا گیا ،افسوسناک تھا۔ہم ہر مشکل کےلئے تیار ہیں، آئینی نظام پاکستان کی عوام کا ہے،اس کو بچائیں گے،میثاق جمہوریت پر بی بی صاحبہ اور نواز شریف نے دستخط کیے،میثاق جمہوریت کے مطابق جمہوری پارٹیاں جمہوری حکومت نہیں گرائیں گی،ہم نے بجٹ میں20دن پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کیا،مشرف دور کے گہرے گھاﺅ خدا جانا کیسے عوام میں بھر گئے،عدم استحکام کا ذمہ دار دھرنا ہے،پاکستان میں پنجاب کے علاوہ بھی لوگ رہتے ہیں،سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے،آمریت لائی نہیں جاتی،خود آتی ہے،آمریت تبھی آئی جب احساس ہوا کہ جمہوریت جڑ نہ پکڑ جائے،دھرنا ختم ہونے کے بعد اعتماد بحال ہوا،نندی پور پراجیکٹ حکومت کی ناکامی ہے،ہمیں نندی پور سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے،وزیراعظم نواز شریف نے نندی پور پراجیکٹ کا نوٹس لیا،ہم پرفیکٹ ہونے کا دعویٰ نہیں کررہے ،نواز شریف پر تنقید ضرور کریں مگر اچھائیاں بھی بتائیں،بلوچستان میں جھنڈے ہماری وجہ سے لہرائے،بھارتی منڈی میںپاکستانی اشیا کی کھپت ہوسکتی ہے۔اس حکومت میں بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے فرانس اور جرمن نے لاکھوں لوگ مروائے،فرانس اور جرمن کے بارڈر ایک دوسرے کےلئے کھلے ہیں،چین اور تائیوان200ارب کی تجارت کرتے ہیں،بھارت اور چین میں75ارب کی تجارت ہے،نظریاتی اختلاف رکھنے والے بھی تجارت کرتے ہیں،ہمیں تجارت کے ذریعے مشترکہ خوشحالی لانی ہے،توانائی کا بحران تجارت کی راہ میں رکاوٹ ہے،اپنی مصنوعات کےلئے نئی منڈیاں تلاش کرنی ہیں،تجارت کےلئے ویتنام اور تھائی لینڈ سے رابطے میں ہیں،طورخم اور چمن میں لینڈ پورٹ بنانے جارہے ہیں،بلوچستان اسمبلی کو بڑھانا ہوگا،چائنا پاکستان راہداری چاروں صوبوں سے گزرے گی،پنجاب میں بہت بہتری آئی ہے،گوجرانوالہ،حافظ آباد روڈ نئی بنائی ہے،تعلیم اور صحت صوبوں کی ذمہ داری ہے،انفراسٹرکچر بھی معیشت کےلئے ضروری ہے،صحت،تعلیم اور انفراسٹرکچر تینوں ضروری ہیںپنجاب میں لاءاینڈ آرڈر بہتر ہوا ہے،پہلی دفعہ پنجاب میں تشدد پر اکسانے والی تقریروں پر سزا دی گئی،ابھی سیاسی استحکام ہونا شروع ہوا ہے،کہتے ہیں گملا نہیں ٹوٹا،مگر پارلیمنٹ کے جنگلے ٹوٹ گئے،یہ جمہوریت نواز شریف کی نہیں،عوام کی ہے،غریب کی پراپرٹی اس کاووٹ ہے۔ان خیالات کا اظہاروفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر نے روزنیوز کے پروگرام”سچی بات”میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹراورروزٹی وی کے چیئرمین ایس کے نیازی کیساتھ گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا ان کا احترام لازم ہے،روز نیوز ضابطہ اخلاق بنانے پر مبارکباد کا مستحق ہے،روز نیوز نے ضابطہ اخلاق میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔باقی چینلز کو بھی روز نیوز کے ضابطہ اخلاق کی تقلید کرنی چاہیے،روز نیوز نے اپنی کمٹمنٹ ضابطہ اخلاق کے ذریعے بتا دی،کاش باقی چینلز بھی روز نیوز کی طرح اپنی کمٹمنٹ دکھائیں۔