- الإعلانات -

چین: امریکی خاتون پر جاسوسی کا الزام

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق چین میں گذشتہ برس سے زیرِ حراست امریکی خاتون سینڈی فین گلیس کے خلاف جاسوسی کے الزام کے تحت فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

56 سالہ سینڈی کو مارچ 2015 میں چین میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک امریکی تجارتی وفد کا حصہ تھیں۔

ان کے شوہر جیف گلیس کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی کے خلاف لگائے گئے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔

یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکی صدر براک اوباما جی-20 اجلاس کے لیے چین کے دورے پر جانے والے ہیں۔

صدر اوباما اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے سنیچر کو ملاقات بھی کریں گے۔ جنوبی بحیرۂ چین میں چینی فوجی سرگرمیوں اور سائبر ہیکنگ کے مسائل امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ بنے ہیں۔

چینی نژاد سینڈی فین گلیس امریکی شہریت حاصل کرنے کے بعد ریاست ٹیکساس میں مقیم تھیں۔

وہ اپنے شہر ہیوسٹن میں کاروباری سرگرمیوں کی تشہیر کے لیے چین گئی تھیں جہاں انھیں مکاؤ سے چین کے جنوبی شہر زوہائی جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

اس سال جون میں اقوام متحدہ کے ایک پینل کا کہنا تھا کہ چین نے سینڈی فین گلیس کو قانونی ٹیم تک رسائی نہ دے کر اور انھیں عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھ کر بین الاقوامی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو سینڈی فین گلیس کے حوالے سے شدید تشویش ہے اور انھوں نے متعدد بار چینی حکام سے اس کیس کے بارے میں مزید معلومات مانگی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گوانژو میں امریکی قونصل خانے نے ملزمہ کو قونصلر کی خدمات فراہم کی ہیں جن میں ماہانہ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

سینڈی فین گلیس کے شوہر کے مطابق ان کی بیوی پر 1996 میں جاسوسی کے مشن پر چین جانے کا الزام ہے، تاہم ان کا دعوی ہے کہ سینڈی فین گلیس کے پاسپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس دوران چین گئی ہی نہیں تھیں۔

سینڈی فین گلیس نے امریکی قونصل خانے کے ذریعے جو خط بھجوایا ہے اس میں انھوں نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی حراست کی وجہ مجرمانہ نہیں بلکہ ایسا سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔