- الإعلانات -

شام: حکومتی علاقوں میں دھماکے، 40 ہلاک

شام میں سرکاری میڈیا کے مطابق کرد اور حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم 40 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے ہیں۔

تین بم حملے حکومت کے زیر انتظام ساحلی شہر طرطوس، حمص، دمشق میں ہوئے جبکہ ایک دھماکہ کردوں کے زیرِ کنٹرول علاقے شمال مشرقی شہر الحسکہ میں ہوا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ چاروں دھماکوں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے یا نہیں۔

نام نہاد اسلامی تنظیم دولت اسلامیہ نے کردوں کے علاقے الحکسہ شہر میں بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

زیادہ تر افراد طرطوس کے دھماکے میں مارے گئے۔ اس علاقے میں موجود ہوائی اڈہ روسی فوج کے زیرِ استعمال ہے اور اس شہر میں صدر بشار الاسد کے حامی علوی افراد کی اکثریت ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی صنعا کا کہنا ہے کہ طرطوس میں 30 شہری ہلاک جبکہ 45 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

اس شہر کو اس سے پہلے مئی میں بھی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے نشانہ بنایا تھا۔

ریاستی میڈیا کے مطابق پہلے ایک کار بم دھماکے کے بعد جب امدادی کارکن وہاں لوگوں کی مدد کے لیے پہنچے تو اسی وقت ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حمص میں چیک پوسٹ پر ایک کار بم حملہ کیا گیا جس میں چار افراد ہلاک اور 10 افراد زخمی ہوئے۔

کردوں کے زیر اثر شہر الحکسہ میں ایک گول چکر پر دھماکہ خيز مواد سے لیس ایک موٹر سائیکل کا دھماکہ ہوا جس میں پانچ عام شہری ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے۔

مقامی پولیس حکام کے مطابق دمشق کے مضافاتی علاقے صبورا بجّا کے روڈ پر ہونے والے بم حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

اس دوران امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں عارضی طور پر جنگ بندی کے لیے جی 20 کانفرنس کے درمیان چین میں روس کے ساتھ ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی ہے اور اس پر اتفاق نہیں ہو پایا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق روسی صدر ولاد میر پوتن اور امریکی صدر باراک اوباما نے شام میں جنگ بندی کے لیے ایک جامع معاہدہ کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ اور روس شام کی حکومتی افواج کے زیر محاصرہ علاقے حلب میں امداد پہنچانے کی غرض سے عارضی جنگ بندی کے لیے بات چیت کرتے رہے ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔