- الإعلانات -

بھارتی پارلیمانی وفد کی آمدپرمقبوضہ کشمیرمیں مظاہرے

بھارت کے پارلیمانی وفد کی آمد پر مقبوضہ کشمیر کا دارالحکومت سری نگر میدان جنگ کی منظر کشی کرتے دکھائی دیا ۔ کشمیریوں نے مظاہرے کیے اور بھارتی فورسز نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں 2کشمیری شہید اور 150 زخمی ہوگئے ۔ مشتعل مظاہرین نے نام نہاد رکن اسمبلی مشتاق احمد کے گھر پر حملہ کردیا منی سیکرٹریٹ کی عمارت کو آگ لگا دی بھارتی بربریت کا یہ عالم ہے کہ 58 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے جس سے خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور لاکھوں افراد فاقوں پر مجبور ہیں ۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت مانگنے پر سفاکی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور قتل عام جاری ہے جس کے خلاف کشمیری سراپا احتجاج ہیں ۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پارلیمانی جماعتوں کے وفد کے ہمراہ دورے پر سری نگر آئے تو ان کے خلاف بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی تمام مکاتب فکر نے بھارتی وزیر داخلہ اور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے پتلے نذیر آتش کیے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے بھارتی پارلیمانی وفد کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا جو اس امر کا عکاس ہے کہ حریت رہنما اپنے حقوق کیلئے تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے ۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت جس بربریت کا مظاہرہ کرتا چلا آرہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی بھارت کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نہیں دے رہا اور ان پر ظلم و ستم بھی ڈھارہا ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فورسز کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کررہا ہے ۔ بھارت کی جارحیت کا یہ عالم ہے کہ اس نے دیدہ دانستہ مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال رکھا ہے اور برسوں سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کررہا دنیا بھارتی مظالم کو دیکھ رہی ہے لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ ان مظالم کو روکنے کیلئے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی ۔ بھارت ایک جارح ملک ہے وہ پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کروا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے لیکن عالمی برادری بھارتی عزائم کو اب بھانپ چکی ہے پاکستان پرامن ملک ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی سے پاکستان کی امن کاوشیںکامیاب نہیں ہورہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگا ۔ بھارتی رویہ خطے کے امن کیلئے شدید خطرے کا باعث بنتا جارہا ہے ۔ خطے کے امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی بربریت کو روکنے کیلئے عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر دباﺅ بڑھانا چاہیے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اس وقت تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔پائیدار امن ہی خطے کی ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اب چشم پوشی سے کام نہیں لینا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کروانے کی کامیاب کوشش کرنی چاہیے۔ ظلم کی ایک حد ہوا کرتی ہے بھارت تمام حدیں توڑ چکا ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اتنی بڑھتی جارہی ہیں کہ ان کو دیکھ کر ابن آدم کا دل خون کے آنسورونے لگتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی بربریت پر جتنا احتجاج کیا جائے کم ہے۔ بھارت تحریک آزادی کو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کبھی بھی نہیں دبا پائے گا۔ ایک نہ ایک دن ظلم کی سیاہ رات ختم ہوگی اور آزادی کا سورج طلوع ہوگا یہ نظام قدرت بھی ہے جب ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو مٹ کر ہی رہنا ہے۔ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھارتی جارحیت اور بربریت کو روکے اور مسئلہ کشمیر کا حل منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل کروائے ۔ بھارت کے مخاصمانہ رویے کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایک طرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہے ۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دے رہا جو کہ اس کی ہٹ دھرمی کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کررہا ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔ بھارت کی یہ بھول ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر اپنے تسلط کو قائم رکھ سکے گا۔ تحریک آزادی جس جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہے اس کے جلد نتائج ابھریں گے اور کشمیری حق خودارادیت لے کر دم لیں گے۔
سیاسی جماعتوں سے اکاﺅنٹس کی تفصیلات طلب
 الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اکاﺅنٹس کی تفصیلات جمع نہ کرانے والی سیاسی جماعتیں انتخاب میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہوں گی۔سیاسی جماعتوں کو بھیجے جانے والے نوٹس میں الیکشن کمیشن نے یاد دہانی کرائی ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے سیکشن 13 کے تحت تمام سیاسی جماعتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ مالی سال ختم ہونے کے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن کو اپنے اکاﺅنٹس کی تفصیلات جمع کرائیں جس کا آڈٹ چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ سے کرایا گیا ہو۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات میں ان کی سالانہ آمدنی، اخراجات، فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات کی تفصیلات درج ہونی چاہئیں۔سیکشن 3 کے جز نمبر 2 کے تحت اکاﺅنٹس کی تفصیلات ساتھ پارٹی لیڈر کا دستخط شدہ سرٹیفکیٹ بھی ہونا چاہیے جس میں یہ درج ہونا چاہیے کہ پارٹی نے کسی ایسے ذریعے سے فنڈز حاصل نہیں کیے جن کی اجازت پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 میں نہیں اور فراہم کی جانے والی تفصیلات بالکل درست ہیں۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے اکاﺅنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کی آخری تاریخ ہر سال 29اگست ہوتی ہے لیکن الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسے نظر انداز کردیا گیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے جانے والے نوٹس میں کہا گیا کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں جو مقررہ وقت میں اپنے اکاﺅنٹس کی تفصیلات جمع کرانے میں ناکام رہیں انہیں مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ سیکشن 13 کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوں گی اور جب تک وہ اکاﺅنٹس کی تفصیلات فراہم نہیں کرتیں کسی بھی ضمنی انتخاب یا عام انتخابات میں اپنے پارٹی نشان کو استعمال کرنے کی اہل نہیں ہوں گی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں سے اکاﺅنٹس کی جو تفصیلات طلب کی ہیں وہ وقت کا تقاضا ہیں اور یہ اچھا اقدام ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنے میں کسی بھی بے اعتنائی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور جلد ازجلد اپنے اکاﺅنٹس کی تفصیلات مقررہ تاریخ سے قبل الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروانی چاہیئے ،قانون سے بالاتر کوئی نہیں اس لئے قانون کی پاسداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے ۔ سیاستدان یا سیاسی جماعتیں اپنے اثاثے کو چھپانے کی بجائے ان کو ظاہر کرنے کی ریت ڈالیں ، اثاثہ جات چھپانے سے سیاستدانوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے احکامات کے تناظر میں سیاسی جماعتیں اپنے اکاﺅنٹس کی تفصیلات جمع کروا کر اپنی ذمہ داری کونبھائیں۔