- الإعلانات -

چین کو عدالتی فیصلے پر عمل کرنا ہی ہوگا: براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ چین کو بحیرۂ جنوبی چین پر اپنے دعوے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پر عمل کرنا ہوگا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے یہ بات جمعرات کو لاؤس میں ایشیائی ممالک کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔

خیال رہے کہ فلپائن کی حکومت بحیرۂ جنوبی چین پر چین کے دعوے کے خلاف مقدمہ بین الاقوامی ثالثی عدالت میں لے گئی تھی تاہم چین نے اس حوالے سے اس ثالثی عدالت کے اختیار کو مسترد کرتے ہوئے اس کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

رواں برس جولائی میں نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں موجود ثالثی عدالت ’پرمیننٹ کورٹ آف آربٹریشن‘ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ چین نے تاریخی اعتبار سے اس خطے پر خصوصی طور پر سمندر اور وسائل پر کنٹرول رکھا ہو۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے سے متعلق کہا کہ اس نے خطے میں سمندری حقوق کو واضح کیا ہے اور چین بحیرۂ جنوبی چین پر اپنے بے جا دعوے کی وجہ سے عدالتی فیصلے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اس صورتحال سے علاقائی کشیدگی بڑھ رہی ہے جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

ہانگ کونگ میں چین کی حمایت کرنے والوں نے اوباما کے خلاف مظاہرے بھی کیے ہیں

براک اوباما نے ایشیائی رہنماؤں سے خطاب میں کہا کہ وہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تسلیم کرتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس پر کیسے تعمیری بات چیت کی جائے، مل کر آگے بڑھ کر کشیدگی کو ختم کیا جائے اور سفارتکاری اور استحکام کو بڑھایا جائے۔

صدر اوباما کی جانب سے اس بات پر زور دینا کہ عدالتی فیصلے پر عمل چین پر ’ذمہ داری‘ ہے۔ چین کے وزیراعظم بھی اس اجلاس میں موجود ہیں اور جمعرات کو ہی صدر اوباما سے ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ چین امریکہ پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی فوج کی فضائی اور بحری سرگرمیوں سے جنوبی بحیرۂ چین کے تنازعے کو عسکری رنگ دے رہا ہے۔

عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جنوبی بحیرۂ چین سالانہ طور پر 50 کھرب کی بین الاقوامی تجارتی نقل و حمل کی گزرگاہ ہے اور اس کے پانیوں پر چین کے دعوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کی جانب سے حالیہ برسوں میں اس علاقے میں بڑے پیمانے پر تعمیرات بھی اس کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرتی ہیں۔

چین بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے جو دیگر ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعووں سے متصادم ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کا سمندر میں مصنوعی جزیرے اور اس پر تعمیرات کا مقصد شہریوں کے لیے سہولیات پیدا کرنا ہے لیکن دوسرے ممالک اس کی ان کوششوں کو فوجی مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔