- الإعلانات -

امریکہ ہمارے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائے, ورنہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )چین کے وزیر اعظم لی کی کیانگ نے جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے پر اپنے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین کو اس تنازعہ کو مناسب انداز میں حل کرنے کے لئے اپنی کوششیں کرنی چاہئیں ، ہمیں جنوبی بحیرہ چین کے بارے میں ثالثی ٹریبونل پر اس لئے اعتراض تھا کہ یہ سمندروں کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کے خلاف تھا کیونکہ اس کنونشن میں سمندری تنازعات کو ابتدائی طورپر مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا کہا گیا ہے۔یہ بات چینی وزیر اعظم نے چین آسیان کانفرنس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ خطے میں ایک دہائی سے امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں جو کہ چین آسیان ممالک کے درمیان طے پانے والے اعلامیے کے خلاف ہیں جبکہ اس اعلامیے پر فریقین نے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا ، اس بات سے قطع نظر کہ ہم ہمسائے ہیں ہمیں زبانی اور عملی طورپر تصادم سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے ،اس تنازعے میں کسی تیسرے فریق کی طرف سے ثالثی کی تجویز معاملے کو اور پیچیدہ بنادے گی جس سے علاقے کی سلامتی اور تحفظ کیلئے تیار کئے گئے ضابطہ اخلاق کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تنازع کا حل تلاش کرنے سے پہلے صورتحال پر قابو پانا چاہئے ، چین اور آسیان ممالک جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال کو درست سمت میں لے جانے کی اہلیت اور پوری دانش رکھتے ہیں ، اس لئے بیرونی طاقتوں کو اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے ہماری کوششوں میں تعاون کو کرنا چاہئے نہ کہ وہ اختلافات کو ہوا دے کر اسے مزید الجھانے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین کے علاقے میں جہاز رانی اور فضائی آزادی کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہی ،چین نے ہمیشہ اس مسئلے کو علاقے کی سلامتی اور استحکام کیلئے تعمیری انداز میں حل کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے آسیان ممالک پر زوردیا کہ وہ اقتصادی ترقی اور سیاسی سلامتی حاصل کرنے کے لئے کام کریں۔دریں اثنا چین کے نائب وزیر خارجہ لیو ڑی من نے کہا ہے کہ خطے سے باہر کے کسی ملک کو جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں نہ ہی یہ ان کے لئے مناسب ہے کہ وہ اس علاقے میں مداخلت کریں۔
چین آسیان کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چینی نائب وزیر خارجہ نے امریکہ اور جمہوریہ کوریا کا نام لئے بغیر کہا کہ خطے کے باہر سے صرف دو ممالک نے تنازعے کو مناسب انداز میں حل کرنے کی بجائے ثالثی کی تجویز پیش کی ہے ،اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اختلافات اور تصادم مزید وسیع ہو جائے گا اور علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا ، اس لئے چین اور آسیان ممالک کو جنوبی بحیرہ چین کے بارے میں طے پانے والے ضابطہ اخلاق اور اعلامیے کو نافذ کرتے ہوئے حل کی مثبت کوششیں کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کا باب بند ہو چکا ، اس لئے اب چین صرف یہ توقع کرتا ہے کہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے پر امن طورپر حل کیا جائے۔