- الإعلانات -

کرپشن کے الزا مات پر نادرا نے 100 ملازمین کو برطرف کر دیا.

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی( نادرا) نے افغان شہریوں کو قومی شناختی کارڈز جاری کرنے اور بڑے کرپشن کیسزمیں ملازمین کو برطرف کرنے کی سنچری مکمل کرلی ہے۔ اتھارٹی میں گندے انڈوں کیخلاف تازہ کارروائی میں درجنوں افسران ، ٹیکنیکل سٹاف اورڈیٹا انٹری آپریٹرزکوگھربھجوا دیاگیاجبکہ کئی کرپشن کیسزایف آئی اے کو بھجواد ئیے گئےہیں۔ایک اعلیٰ ذرائع نے بتایاکہ کرپشن کے الزا مات پر اب تک ہم نادرا کے 100 ملازمین کو نکال چکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چندافسران نےاتھارٹی کو اعترافی بیانات بھی داخل کرائے ہیں کہ وہ نادرا میں لوٹ مارکرنےوالوں کاحصہ رہ چکےہیں۔ ان اعترافات میں سےایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پروکیورمنٹ محمد اقبال کے بیان جس کی نقل دی نیوز کے پاس ہےمیں بتایاگیاہےکہ این ایچ اے کےآر ایف آئی ڈی ٹیگز (ریڈیوفریکوئنسی شناخت)پراجیکٹ میں این ایچ اے کے لوگوں سے ملی بھگت کرکے ایک فرم کو نوازا گیا اور اس سےہارڈویئر کی خریداری کی گئی۔اقبالی بیان میں بتایا گیا کہ ’’ سولر سسٹم پراجیکٹ ( کرائے کی بنیاد پر) ۔ گوہر اورراٹھور اس پراجیکٹ پرما مور تھے۔دوسال میں اس پراجیکٹ کے 15مرتبہ ٹینڈر ہوئے کمپنیوں کی طرف سے کم بولیوں کی پیشکشوں پر غور بھی کہا گیا ۔ ایک کمپنی آخر میں آئی جس کی منظوری ابھی ہونا باقی ہے۔ تاحال فائل بھی منظوری کےعمل میں ہے۔ہارڈویئر کے مطابق 62 مقامات کیلئے مکمل سولر پینل سسٹم درکار تھے۔ میٹنگ کے منٹس محفوظ نہیں کئے گئے ۔ راٹھور صاحب اور قیصر صاحب منٹس جاری کرنے کے ذمہ دار تھے لیکن انہوں نے یہ عمل چھٹی بڈمیٹنگ کے بعد شروع کیا۔ ٹینڈر کے حوالے سے کمپنیوں کی جانب سے اعتراضات کئے گئے کہ یہ بہت مخصوص نوعیت کےاور ایک مخصوص کمپنی کے حق میں تھے۔ اس میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سندھ آرم لائسنس پراجیکٹ میں ایک خاص کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔ بیان کے مطابق ’’(ڈائریکٹر پراجیکٹس) فیصل جمشید، (ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹس) خضر مصباح نے معاہدے کو حتمی شکل دی اورنمونوں کی منظوری دی ( ہر کمپنی نے 10 سیمپلز دئیے) صرف ایک کمپنی مطلوبہ مقدار میں نمونے فراہم کرسکی اور اسی بنا پر اسے کام دیدیا گیا۔ آدھی ڈیلیوری ہونے پر نصف ادائیگی ہوگئی۔ فیصل جمشید نے اقبال کو کہا کہ ایکس میگا پلس (اسلام آباد) کمپنی کو ٹھیکہ ملنا چاہئے۔ درکار ہارڈویئرمیں 37 سائٹس کیلئے 200 کمپیوٹرز ،سرورز ، ڈیٹا انٹری کیلئے لیپ ٹاپس شامل تھے۔تمام امور سی ڈی سی پی کی ایف سکس میں واقع عمارت میں انجام پائےکیونکہ پرائم منسٹرآفس کے تمام افراد وہیں تھے اس لئے یہ سہل تھا‘‘۔ اسی طرح بیان میں کہا گیا ’’ پنجاب آرمز لائسنس کیلئے ہارڈ ویئر ،کمپیوٹرز،کرورز،پرنٹرزاوردیگرسندھ آرمزلائسنس جتنا تھا۔ مختار ڈیلر اور 3 سال کی سپورٹ وارنٹی بھی لازمی تھی ۔ میگا پلس کو ٹھیکہ دیدیا گیا۔ تمام سامان فراہم کردیا گیااور بعض ادائیگیاں ابھی باقی ہیں۔ فیصل جمشید، شمس الاسلام ( ڈپٹی ڈائریکٹر ہارڈوئیر)معاملات طےکررہے تھے۔ میگا پلس کی جانب سے عبدالصمد معاملات انجام دےرہے تھے‘‘۔ بیان میں بتایا گیا کہ 3 سال قبل پرانم منسٹر آفس کو ڈیٹا انٹری سکیننگ کیلئے 4/6 سکینرز درکار تھے۔ دو کمپنیوں / سکینرز کی سفارش کی گئی۔ ’’ ایک کو اس بنا پر مسترد کردیا گیا کہ انہیں ایک مخصوص سکینر درکار تھا ( اگرچہ اسکی قیمت زیادہ تھی)۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ سکینر سافٹ ویئر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ تمام سکینرز ایچ کیو میں تھے۔ اگرکوئی کسی فروخت کار کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہو تو وہ مخصوص چیز پر اصرار کرتا ہے تاکہ کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اکثر کمپنیاں ٹیکنیکل بنیادوں پر مسترد ہو جاتی ہیں۔