- الإعلانات -

رشتہ ماں با پ کرائیں وہی ٹھیک ورنہ ایسا بھی ہو سکتاہے۔

لندن: آج کل ہر کام آن لائن کیا جارہا ہے، حتیٰ کہ رشتے بھی، لیکن آن لائن رشتوں کی سہولت فراہم کرنے والی ویب سائٹوں سے استفادہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ کیسے کیسے معاملات پیش آتے ہیں اس کا اندازہ ویب سائٹ Reddit پر اپنے تجربات شیئر کرنے والوں کی باتوں سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ ایک صاحب نے لکھا کہ رشتے کی آن لائن تلاش کے دوران مختلف لڑکیوں کے والدین کے مطالبات کچھ یوں تھے۔ ٭ دسویں جماعت سے ایم اے تک کی ڈگریوں کی فوٹوکاپی بھیج دیں۔ ٭ ایک لڑکی کے والدین نے مطالبہ کیا کہ ان کی بچی کی بیرون ملک تعلیم کا بندوبست کردیا جائے۔ ایک لڑکی نے لکھا کہ ایک لڑکے کے والدین اس کے گھر آئے اورپہلا سوال ہی یہ کیا ”آپ جہیز کتنا دیں گے؟“ لڑکی کا کہنا ہے کہ جب اس کے والدین نے اس سوال میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا تو لڑکے والے ناراض ہوکر چلے گئے اور بعد ازاں فون کرکے خوب دل کا غبار نکالا اور یہ بھی کہا کہ ان کی جہیز کی ڈیمانڈ لڑکے کی تعلیم کے مطابق تھی۔ ایک اور لڑکی نے لکھا کہ لڑکے کی پہلی فرمائش ہی گرین کارڈ کا حصول تھی، جسے پورا کرنا اس کے بس میں نہ تھا۔ ان سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ رشتے کروانے والی ویب سائٹوں کے ساتھ ان کا تجربہ مضحکہ خیز بھی تھا اور افسوسناک بھی، اور ان ویب سائٹوں پر اعتبار کرنے اور ان کے زریعے رشتہ تلاش کرنے والوں کیلئے ایک سبق بھی۔